ضم شدہ اضلاع میں جرگہ سسٹم دوبارہ فعال

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا حکومت نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں جرگہ سسٹم دوبارہ شروع کر دیا۔ جرگہ ایکٹ نافذ کرنے کا مقصد قبائلیوں کے مسائل فوری حل کرنا ہے۔

صوبائی حکومت نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں عرصہ دراز سے قبائلیوں کے درمیان جاری تنازعات کے حل کے لیے اقدامات مزید تیز کر دیئے ہیں.

مصالحتی جرگہ سسٹم ایکٹ نافذ کرتے ہوئے ہر قبائلی ضلع میں تحصیل کی سطح پر 50 مشران جرگہ کے لئے نامزد کئے گئے ہیں۔ دوسری جانب جرگہ سسٹم کے نفاذ سے کوئی خوش تو کسی نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

عمائدین سمیت صوبائی اسمبلی کے اراکین کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے جو جرگہ اور روایات سے بے خبر ہیں، انتظامیہ کے مطابق جرگہ ممبران کے میرٹ کے برعکس فیصلوں پر انہیں جرگہ کی لسٹ سے خارج بھی کیا جائے گا۔

دوسری جانب قبائلی طلباء تنظیموں نے جرگہ سسٹم کی بحالی پہ شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کو ضم کرنے کا مقصد وہاں آئین اور قانون کے تحت ایسا نظام بحال کرنا تھا کہ جہاں شہریوں کو وہ تمام سہولیات حاصل ہوں جو پاکستان کے کسی بھی عام شہری کو حاصل ہیں جبکہ حکومت جرگہ سسٹم کو بحال کرکے ایک مرتبہ پھر قبائلی علاقوں کو من پسند مشران کے ہاتھوں کھلونا بنانے پہ آمادہ ہے۔