معلومات تک رسائی کیلئے قبائلی اضلاع سے صرف 12 درخواستیں موصول

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

31 مئی 2018 کو 25ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد جن قوانین کو پہلی مرتبہ ان نئے اضلاع تک توسیع دی گئی ان میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (آر ٹی آئی) یا معلومات تک رسائی کا قانون بھی شامل ہے تاہم اس اقدام کے تاحال خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے ہیں اور ڈیڑھ سال گزنے کے باوجود ان اضلاع میں اب تک بارہ درخواستیں ہی مختلف سرکاری محکموں میں جمع کی گئی ہیں۔

25 ویں آئینی ترمیم کے بعد قبائلی علاقہ جات باقاعدہ طور پر خیبر پختونخواہ کا حصہ بن گئے ہیں اور صوبے کے تمام قوانین پرانے فاٹا میں لاگو ہیں، لیکن آر ٹی آئی ایکٹ یعنی معلومات تک رسائی کے قانون سے قبائلی لوگوں نے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا ہے جس کی وجوہات ٹی این این نے جاننے کی کوشش کی ہے۔

رائٹ ٹو انفارمیشن کے دفتر سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اب تک سات قبائلی اضلاع سے مجموعی طور بارہ درخواستیں مختلف سرکاری محکموں میں جمع ہوئی ہیں، ان میں چھ درخواستوں کے ساتھ ضلع کرم سرفہرست ہے، اس کے علاوہ خیبر سے 3 اور شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور مہمند سے ایک ایک جبکہ اورکزئی اور باجوڑ سے ایک درخواست بھی جمع نہیں ہوئی ہے۔

واضح رہے کے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کو قبائلی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ صوبے کے زیر اثر قبائلی علاقوں (پاٹا) ملاکنڈ ڈویژن میں بھی لاگو کیا گیا ہے لیکن وہاں پر اعداد و شمار قدرے بہتر ہیں۔

آر ٹی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع سے مجموعی طور پر 39 درخواستیں مختلف محکموں کو موصول ہوئی ہیں جس پر زیادہ تر محکموں نے مطلوبہ معلومات درخواست گزاروں کو فراہم بھی کی ہیں۔

قبائلی ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے باخبر صحافی علی افضل افضال کے مطابق فاٹا انضمام کے بعد بہت سے سرکاری محکموں کو قبائلی اضلاع کو وسعت دی گی ہے جن میں ایک آر ٹی آئی بھی ہے لیکن بدقسمتی سے بہت کم لوگ اس اہم قانون کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ بات چیت میں انھوں نے بتایا کہ قبائلی لوگوں کو اس قانون کے بارے میں آگاہی دینا ضروری ہے لیکن اس حوالے سے کسی بھی طرح کے عملی اقداقات ہوتے نظر نہیں آرہے۔

ایک سوال کے جواب میں علی افضل افضال نے بتایا کہ یہ قانون اس طرح آسانی سے قبائلی علاقوں میں لاگو بھی نھیں ہو سکے گا کیونکہ ضم شدہ اضلاع میں ابھی تک سرکاری افسران کے وہی پرانے ٹھاٹ باٹ ہیں، ان کو کیا فکر کسی شہری کو معلومات دینے کی، وہ اتنی آسابی سے عام لوگوں کو معلومات نہیں دیں گے کیونکہ ان کو اس کام کیلئے گول چکر لگانے پڑیں گے، اگر مخلصانہ کوششیں کی جائیں تو ممکمن بھی ہے۔

آر ٹی آئی کمیشن کے ترجمان سید سادات جہان سے جب قبائلی اضلاع میں آر ٹی آئی قانون کی تشہیر اور اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ کمیشن نے ضم شدہ اضلاع میں خوب تیاری پکڑی ہے اور رواں ماہ اس کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ قبائلی اضلاع میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ قانون سے عام لوگوں کو مانوس کرانے کیلئے سمینارز، آگاہی سیشنز، جرگے، مقامی ریڈیوز کے ذریعے پیغامات، بڑی شاہراہوں پر اشتہارات اور مقامی پریس کلبوں میں پروگرامات کے پلان پر کام جاری ہے، جیسے ہی رواں ماہ صوبائی حکومت او ڈونر ایجنسیوں کی جانب سے بجٹ منظور ہو گا تو ان اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔

ترجمان کمیشن نے یہ بتایا کہ ابھی تک جتنی درخواستیں معلومات تک رسائی کیلئے مختلف قبائلی اضلاع میں جمع ہوئیں وہ حوصلہ افزا نہیں ہیں لیکن ہماری امید اور پلاننگ ہے کے ایک عرصہ دراز سے محرومی کے شکار قبائلی عوام کو معلومات تک رسائی کے قانون کے حوالے سے حتی الوسع اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

سید سادات جہان نے یہ بھی بتایا کہ قبائلی علاقوں میں ابھی سے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ہمارے رابطے شروع ہوئے ہیں جن میں مقامی صحافی بھی شامل ہیں جو اس قانون کے حوالے بہت اہم کردار ادا کریں گے۔

انھوں بتایا کہ اس حوالے سے ہمارا پہلا پروگرام فاٹا یونیورسٹی میں ہوا جس میں بڑی تعداد میں طلبہ اور مقامی لوگوں نے شرکت کی جو بہت حوصلہ افزا بات ہے۔

ترجمان کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن کے بعد ہر قبائلی ضلع میں پبلک انفارمیشن آفیسر کی تیعناتی عمل میں لائی جائے گی جس کے ساتھ معلومات حاصل کرنا بہت آسان ہو جائے گا کیونکہ ابھی تک ان اضلاع میں (پی آئی اوز) کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی ہے لیکن ہم اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان کمیشن نے بتایا کہ جب تک پبلک انفارمیشن آفیسرز کی تعیناتی نہیں ہوتی اس وقت ہر محکمے کا سربراہ ضلعی سطح پر معلومات دینے کا پابند ہے اور یہ کہ آر ٹی آئی کمیشن سے جب کوئی شخص قبائلی اضلاع سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم کوشش کرتے ہیں کہ اسے بہ آسانی مطلوبہ معلومات فراہم کریں اور جو درخواستیں اب تک موصول ہوئی ہیں ان میں سے بیشتر پر معلومات دی گئی ہیں۔

سید سادات جہان نے بتایا کہ رواں ماہ ٹی وی، اخبارات، ریڈیو، بیل بورڈز، سیمنارز، آگاہی پروگرامات، آر ٹی آئی قانون کے حوالے سے پبلک انفارمیشن افسران (پی آئی اوز) کی تربیت، نیوز لیٹرز، پوسٹر، ایکٹ کاپیز، مذاکروں و مباحث اور پریس کانفرنسز کیلئے دس اعشاریہ دو ملین روپے کا بجٹ تیار کیا گیا ہے، جیسے ہی حکومت فنڈز مہیا کرے گی تو اس پلان کو عملی جامہ پہنایا جائے گا اور امید ہے کہ یہ فنڈز روان ماں (فروری) میں جاری ہو جائیں گے، اس پروگرام میں قبائلی اضلاع بھی شامل ہیں۔

ضلع خیبر کی باڑہ تحصیل سے تعلق رکھنے والے جرنلسٹ قاضی فضل اللہ کے مطابق اس قانون کے ثمرات قبائلی عوام تک اس صورت میں پہنچیں گے جب صحیح معنوں میں اس پر عمل درآمد کیا جائے گا، قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بھی چاہیے کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ سے فائدہ اٹھائیں اور اس کو سمجھیں کہ اس کے تحت وہ کن کن معلومات تک رسائی حاصل کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا قانون ہے تاہم اس میں کچھ نقائص بھی ہیں، مثال کے طور پر ان کے پاس سزا دینے کا پورا اختیار نہیں ہے، ابھی تک اس قانون کے تحت کسی کو سزا نہیں ملی نہ ہی کوئی جیل گیا ہے، اگر اس قانون کے تحت کسی ادارے کو معلومات نہ دینے پر سزا دی جائے تو اس میں بہتری آسکتی ہے، اگر قبائلی اضلاع میں اس قانون پر صحیح عمل درآمد کیا جائے تو اس سے کرپشن میں بھی کمی آسکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں قاضی فضل اللہ  کا کہنا تھا کہ پولیس، پبلک ہیلتھ اور لوکل گورنمنٹ، تعلیم اور عوام سے متعلق دیگر ادارے اس میں آتے ہیں جو اس امر کے پابند ہیں کہ وہ اس قانون کے تحت درخواست دینے والے کو معلومات فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی محکمہ میں نئی بھرتیاں ہوئی ہوں اور کسی کو شک ہو کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو بھی وہ اس ضمن میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

لنڈی کوتل تحصیل سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور خیبر یوتھ فورم کے صدر عامر آفریدی کے مطابق فاٹا انضمام کے بعد بہت سے محکموں کا دائرہ کار قبائلی اضلاع تک ایکسٹنڈ ہوا ہے لیکن کاغذی کارروائی کی حد تک، عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔

سماجی کارکن کے مطابق کمیشن کے حکام کو چاہیے تھا کہ آر ٹی آئی قانون کو قبائلی اضلاع میں عام کرنے کیلئے نچلی سطح پر کمیٹیاں بناتے اور اس میں یوتھ کو انگیج کرتے، پہلے نوجوانوں کو ٹریننگ دیتے اور بعد میں یہ نوجوان گاؤں کی سطح پر آر ٹی آئی قانون کے فوائد اور اہمیت سے لوگوں کو روشناس کراتے۔

عامر آفریدی نے مزید بتایا کہ قبائلی اضلاع 27000 مربع کلومیٹر پر محیط علاقہ ہے لہذا تین چار سائن بورڈ لگانے سے یہ کام نہیں ہوگا، "جس طرح اس اہم قانون پر کام ہو رہا ہے تو میرا نہیں خیال کہ یہ کامیاب ہوگا۔”

انھوں نے مزید بتایا کہ اب بھی قبائلی اضلاع میں بیوروکریسی کا پولیٹیکل ایجنٹ دور کا جاہ و جلال ہے کیونکہ عام قبائلی اب بھی ان کے محتاج ہیں جس کی زندہ مثال چند دن پہلے اے ڈی آر سسٹم کا نفاذ ہے۔