وزیراعلیٰ محمود خان کا ضلع خیبر سے عوامی رسائی مہم کا باضابطہ آغاز

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضلع خیبر سے عوامی رسائی مہم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد ضم شدہ اضلاع میں صوبائی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں سے ضم اضلاع کے عوام کو آگاہ کرنا اور منصوبوں کے حوالے سے عوام کی رائے لینا ہے تاکہ قبائلی عوام صحیح معنوں میں حکومتی اقدامات سے فائدہ اُٹھا سکیں اور اُن کی ترجیحات کے مطابق مسائل حل کئے جا سکیں۔

وزیراعلیٰ نے روزانہ کی بنیاد پر ضم اضلاع میں عوامی رسائی مہم جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے قابل عمل ترقیاتی منصوبہ بندی کے تحت 83 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے اور قبائلی عوام سے کئے گئے وعدے بہر صورت پورے کریں گے، اگر سب ایک پیج پر ہوں گے تو ترقی کا سفر دس سال کی بجائے پانچ سال میں پورا ہو گا، کوئی ذاتی مقصد نہیں، قبائلی عوام کی ترقی ترجیح ہے، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبے مکمل کریں گے۔

ضلع خیبر کے دورہ کے دوران لنڈی کوتل میں صوبائی حکومت کی عوامی رسائی مہم کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اُن کی حکومت نے میرٹ اور شفافیت کا نعرہ لگایا ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، قومی خزانہ لوٹنے والوں سے رقم واپس لیکر عوام پر خرچ کریں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم عوامی وسائل عوام کی فلاح کیلئے خرچ کرنے پر یقین رکھتے ہیں، ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے 83 ارب روپے کا خطیر ترقیاتی بجٹ رکھا گیا ہے اور قابل عمل منصوبہ بندی کی گئی ہے، اگر مزید بھی کسی سکیم کی نشاندہی کی گئی تو اُسے بھی منظور کریں گے، عوام نے ہمیں ووٹ دیا ہے، ہم عوام کے حق کیلئے لڑیں گے۔

اُنہوں نے اعلان کیا کہ شہداء کے بچوں کیلئے جلد وظیفہ شروع کیا جائے گا اور قبائلی علاقوں میں آسامیوں پر قبائلی عوام کو بھرتی کیا جائے گا، خیبر میں سیاحتی سفاری ٹرین کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے مشاورت جاری ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی، دیگر صوبائی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، قبائلی مشران، سرکاری اداروں اور تاجر تنظیموں کے نمائندگان، ضلعی انتظامیہ کے حکام، نوجوانوں اور صحافی حضرات نے نشست میں شرکت کی۔

قبل ازیں ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر نے عوامی آگاہی کیلئے ضلع میں جاری صوبائی حکومت کے اقدامات اور افادیت پر تفصیلی بریفینگ دی۔