پانچ قبائلی اضلاع کے متاثرہ مکانات کے مالکان کو 24 ارب 42کروڑ روپے کی ادائیگی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کی بحالی کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے مکانات کی تعمیر کی مد میں 24 ارب 42 کروڑ روپے کی مالی معاونت جاری کی گئی ہے۔

محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری خیبر پختونخوا کے مطابق سٹیزن لاسز کمپنسیشن پروگرام کے تحت پانچ قبائلی اضلاع کے 74719 متاثرہ مکانات کے سلسلے میں عوام کو 24 ارب 42کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی گئی ہے۔

اس سلسلے میں مکمل متاثرہ مکان کے لئے 4 لاکھ روپے جبکہ جزوی متاثرہ مکان کے لئے ایک لاکھ 60 ہزار روپے مالک مکان کو ادائیگی کی گئی ہے۔

محکمہ ریلیف ترجمان کے مطابق جنوبی وزیرستان کے 28366 مکمل متاثرہ مکانات اور 5966 جزوی طور پر متاثرہ مکانات کے لئے عوام کو 12 ارب 30 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی جبکہ شمالی وزیرستان کے 6415 مکمل متاثرہ مکانات اور 8779 جزوی طور پر متاثرہ مکانات کے لئے عوام کو 3 ارب 97 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔

اسی طرح ضلع خیبر کے 5191 مکمل متاثرہ مکانات اور 3708 جزوی طور پر متاثرہ مکانات کے لئے 2 ارب 66 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی۔

ضلع کرم کے 3648 مکمل متاثرہ مکانات اور 1932 جزوی طور پر متاثرہ مکانات کے لئے عوام کو ایک ارب 76 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی جبکہ ضلع اورکزئی کے 8323 مکمل متاثرہ مکانات اور 2391 جزوی طور پر متاثرہ مکانات کے لئے عوام کو 3 ارب 71 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ٹانک میں قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے کا آپریشن راہ نجات سے تباہ شدہ مکانات اور کاروبار کی بحالی کیلئے معاوضوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے جاری ہے۔

دھرنا منتظمین کے مطابق محسود علاقوں میں آپریشن راہ نجات سے 87 ہزار گھر تباہ ہوئے جن کا سروے حکومت کی طرف سے اعلان کے بعد شروع ہوا لیکن ان کو دو، دو اور تین، تین سال بعد بھی معاوضوں کی ادائیگی نہیں ہوئی۔