قبائلی اضلاع میں امن سے ایچ آئی وی کی آگاہی کے دروازے کھل گئے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

عسکریت پسندی نے قبائلی اضلاع میں ایچ آئی وی/ ایڈز کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا ہے۔ اب صحتِ عامہ کے حکام آگاہی پھیلانے اور مقامی شہریوں کو ٹیسٹوں اور علاج کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

قبائلی اضلاع میں ہونے والی کامیاب عسکری مہمات نے صحت عامہ کی بہتر سہولیات کے لیے راہ ہموار کر دی ہے جس سے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی مقامی شاخ عسکریت پسندوں کی طرف سے انتقام کے خطرے کے بغیر ٹیسٹ کی سہولیات فراہم کرنے اور آگاہی پیدا کرنے کے قابل ہو گئی ہے۔

سیکورٹی کی سہولیات کے بہتر ہونے سے پہلے، طبی عملہ ایسی مہمات کے لیے آزادانہ طور پر کام نہیں کر سکتا تھا کیونکہ عسکریت پسندوں نے انہیں قبائلی اضلاع میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

مقامی شعبہ صحت کے اہلکاروں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ایچ آئی وی /ایڈز اور عسکریت پسندی کے درمیان ایک گہرا تعلق موجود ہے کیونکہ ماضی میں شہری عسکریت پسندوں کے ڈر کی وجہ سے مناسب طبی امداد حاصل کرنے کے لیے سفر نہیں کر سکتے تھے”۔

حکام نے کہا کہ طبی عملے کے بہت سے ارکان عسکریت پسندوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور اسی طرح تشخیص کی سہولیات میسر نہیں تھیں۔

آگاہی کے سیشن اور مہمات ممکن نہیں تھیں اور ایچ آئی وی/ ایڈز کافی زیادہ دفعہ پھیل گئی۔

انہوں نے کہا کہ "صحت کی تعلیم کا نہ ہونا ایک اور عنصر تھا کیونکہ محفوظ جنسی تعلقات کے بارے میں بات چیت کا نہ ہونا اور غیر تربیت یافتہ طبی عملے کی طرف سے طبی مراکز میں کام کے غیر محفوظ طریقوں نے اس مسئلے میں اضافہ کیا جس کے باعث اس بیماری کے پھیلنے میں مدد کی”

انہوں نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ بہت سے مقامی شہری ایچ آئی وی کو غلطی سے بدکاری سے جوڑ دیتے ہیں، کہا کہ "برادری میں اسکریننگ کا نہ ہونا ایک اور اضافی عنصر تھا”۔

انہوں نے کہا کہ بدنامی اور عسکریت پسندوں کے خوف کے باعث، ایچ آئی وی کا وائرس رکھنے والوں نے اپنی حالت کو چھپایا”۔

صحت عامہ کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی /ایڈز کو پھیلنے سے روکنے کے لیے آگاہی پھیلانا کامیابی کی کنجی ہے۔

قبائلی اضلاع میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے فوکل پرسن نادر خان نے باجوڑ میں ایک آگاہی کے سیمینار کے دوران 7 دسمبر کو کہا کہ "نئے انضمام شدہ قبائلی اضلاع میں ہماری سرگرمیوں کا بنیادی مقصد ایڈز کے بارے میں آگاہی پھیلانا ہے کیونکہ اکثریت کو معلومات حاصل نہیں اور وہ اسکریینگ ٹیسٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں”۔

انہوں نے کہا کہ "تین سال پہلے، مقامی افراد اسکریننگ ٹیسٹ کروانے کے لیے تیار نہیں تھے اس لیے ہم ہیپیٹائٹس اسکریننگ کے نام پر ان کے ٹیسٹ کر رہے تھے”۔

"مگر اب صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے اور وہ اسکریننگ کے ٹیسٹوں کے لیے آ رہے ہیں کیونکہ وہ آگاہ ہیں کہ ایچ آئی وی صرف بدکاری کی وجہ سے نہیں پھیلتی ہے”۔

خان نے کہا کہ "ہم نے تمام قبائلی اضلاع میں عوام کے لیے آگاہی کی مہمات منعقد کی ہیں اور جلد ہی ہم مزید سرگرمیاں منعقد کریں گے۔ ہم عام طور پر تمام قبائلی اضلاع میں سالانہ 10 روزہ اسکریننگ کیمپ منعقد کرتے ہیں”۔

باجوڑ ڈسٹرکٹ کے ہیلتھ افسر ڈاکٹر خلیل الرحمان نے سیمینار کے دوران کہا کہ "بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جانے چاہیں”۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات میں "جنسی تعلقات میں حفاظت کے طریقے، سرنجوں کو دوبارہ استعمال کرنے سے بچنا، خون کے انتقال کے لیے مناسب طریقے سے حاصل کیا خون استعمال کرنا اور جراثیم سے پاک طبی سامان استعمال کرنا” شامل ہیں۔

حکام نے سیمینار کے دوران بتایا کہ خیبر پختونخواہ کے قبائلی اضلاع میں سے جنوبی وزیرستان میں سب سے زیادہ ایڈز کے مریض رجسٹر ہوئے ہیں”۔

خان نے ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرز ہسپتال خار باجوڑ میں کہا کہ قبائلی اضلاع میں ایڈز کے 738 مریضوں کا اندراج کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ان میں سے 190 جنوبی وزیرستان میں، 148 کرم، 130 خیبر، 113 جنوبی وزیرستان، 62 مہمند، 61 باجوڑ اور اورکزئی کے قبائلی ضلع میں 34 ہیں”۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ مراکز مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ یہ مراکز جنوبی وزیرستان، باجوڑ اور کرم کے اضلاع میں ہیں”۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں علاج کے مراکز قائم کرنے سے پہلے، مقامی مریضوں کو پشاور جانا پڑتا تھا”۔

خان نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ دوسرے قبائلی اضلاع میں بھی جلد علاج کے مراکز کھولے جائیں گے کہا کہ اس صورتِ حال نے بہت سے مریضوں کے لیے مسائل پیدا کیے تھے مگر اب انہیں ان کے اپنے اضلاع میں علاج کی سہولیات میسر ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے ایڈز کے انسداد کے لیے قبائلی اضلاع میں 14 ڈاکٹروں اور دیگر متعلقہ عملے کے تربیت فراہم کی ہے”۔