قبائلی اضلاع میں جنسی ہراسانی سے متعلق کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ عائشہ جو قریبا ایک سال پہلے اس کو اپنے بڑے کزن نے اس کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں ایک سرکاری کالج میں پڑھتی ہوں، لیکن مجھے نہیں پتہ کہ اس طرح کے واقعات کے بعد کہاں پرکیس فائل کرنا ہوتا ہے.

ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر میں نے اس واقعے کے خلاف کیس فائل کیا تو میرا معاشرہ میرا ساتھ نہیں دے گا، اس کے بعد توہین آمیز انداز میں میری نشاندہی کی جائے گی اور اس پر بات کی جائے گی۔

جنسی طور پر ہراساں کیے جانے والے بہت سے متاثرین نے خیبرپختونخوا میں عورتوں کو کام کی جگہوں پرہراساں کیے جانے کے خلاف (ترمیمی) ایکٹ 2018 کے تحت شکایات درج کیں۔

کوئٹہ میں پیدا ہونے والی رخشندہ ناز گذشتہ 25 سالوں سے خواتین کے حقوق کی تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سے عہدہ میں نے سنبھالا ہے تب سے اب تک ضم شدہ قبائلی اضلاع کی کسی بھی خاتون نے ہراساں کرنے کا مقدمہ درج نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2 جنوری 2019 کو خیبرپختونخوا حکومت نے مجھے کابینہ کے اجلاس میں منتخب کیا اور 22 جنوری 2019 کو مجھے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے خیبرپختونخوا میں صوبائی محتسب مقرر کیاجس میں اب تک ان کے پاس جنسی ہراسانی کے 56 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ہراساں کرنا ہمیشہ جسمانی نہیں ہوتا کیونکہ سائبر کرائم بھی اس نسل کو متاثر کررہا ہے۔

بیس سالہ شبانہ کا کہنا ہے کہ وہ فیس بک استعمال کرتی ہے اور اپنی تصاویر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتی ہے۔ اس نے کہا کہ ایک شخص نے اس کی تصاویر کو غیر مناسب طریقے سے ایڈٹ کیا اور اسے بلیک میل کرنے کے لئے اس کے والد کو وہ تصاویر بھیجیا اور پانچ لاکھ روپے مانگے جس پر اس کے والد نے قرض لے کر رقم کا بندوبست کیا۔

ضلع کرم سے تعلق رکھنے والی خواتین کے حقوق کی کارکن ڈاکٹر نورین نصیر نےٹرائبل پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع میں کسی کو بھی جنسی ہراسانی کے معاملات سے متعلق اعداد و شمار نہیں مل سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین کی حفاظت کے لئے ایک بھی قانون نہیں تھا، خواتین مقدمات درج کرنے سے بے خبر ہیں مزید یہ کہ غیرت کے نام پر قتل کے خوف سے وہ بولنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔

انہوں نے اس بات کی نشان دھی کی کہ یہاں تک کہ خیبرپختونخوا میں بھی خواتین بدنامی کے خوف سے مقدمات درج نہیں کرنا چاہتی۔ ڈاکٹر نورین نے کہا کہ کے پی کے قوانین کو قبائلی اضلاع تک بڑھا دیا گیا ہے اور اب خواتین عدالتوں میں جاکر مقدمات دائر کرسکتی ہیں۔