قبائلی ضلع باجوڑ میں قبائلی مشران کا اے ڈی آر نظام کا خیرمقدم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

باجوڑ کے ترکھانی واتمانخیل کے قبائلی مشران نے عدالتی نظام کیساتھ ساتھ اے ڈی آرکی بحالی کا خیرمقدم کیا ہے۔

ہفتہ کے دن ضلع باجوڑ کے صدر مقام خار میں ترکھانی اور اتمان خیل اقوام کے مشران کا مشترکہ جرگہ ہوا۔ جس میں ملک عبدالعزیز، ملک محمد اکبرسوال قلعہ، ملک حفظ الرحمن، ملک نواز خان، ملک شاہین، مفتی حنیف اللہ جان، میاں مسعود جان،ملک فدا محمد اتمانخیل، ملک سلطان زیب لرخلوزو، ملک آیاز برخلوزو، ملک بہادر شاہ، شوکت یوسف،ملک عبدالاسلام سلارزئی، ملک داود نیاگ اور دیگر مشران نے شرکت کی۔

جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں قبائل کے اباؤ اجداد اور قبائیلی روایات کا آئینہ دار جرگہ سسٹم کے طرز پر (ADR) بحال کرنے پر تمام مشران وزیر اعظم عمران خان،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیراعلی اور گورنر خیبر پختونخواہ،کور کمانڈر پشاور، آئی جی ایف سی اور چیف سکریٹری خیبر پختونخواہ کے مشکور ہیں اور ہم ڈپٹی کمشنر باجوڑ عثمان محسود سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد سے جلد اس نظآم  پر کام شروع کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اے ڈی آر کے نفاذ میں مزید تاخیر نہ کی جائے تاکہ قبائیل کے مسائل جلد سے جلد حل ہوں۔

قبائلی عمائدین نے کہا کہ عدالتی نظام کیساتھ ساتھ اے ڈی آر سسٹم کو بحال رکھنے سے مسائل میں کمی آئیگی۔ ہم اے ڈی آر کو بحال کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس کو قانونی حیثیت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مشران نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع کے انجینئر نگ ومیڈیکل سیٹس اور سینیٹ میں مخصوص نشستوں کو برقرار رکھاجائے۔

قبائلی عمائدین نے اس بات پر افسوس کااظہار کیا کہ انضمام سے قبل بلند دبانگ دعوے کئے جاتے تھے کہ این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دیا جائیگا لیکن افسوس کہ ابھی تک قبائلی اضلاع کو این ایف سی ایوارڈ کا ایک روپیہ بھی نہیں دیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معدنیات پر قبضہ کیا جارہاہے لیکن اس کے بدلے قبائلی اضلاع کے عوام کو کچھ بھی نہیں دیا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ انضمام سے قبل ہم نے جس خدشات کا اظہار کیا تھا وہ درست ثابت ہورہے ہیں۔ قبائلی عمائدین نے مطالبہ کیا کہ انضمام سے قبل ہونیوالے وعدوں کو پورا کیاجائے۔

قبائلی عمائدین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مامد گٹ کالج میں باجوڑ کو نوکریوں میں اور طلبہ کے داخلوں میں پورا کوٹہ دیاجائے