بابائے غزل امیر حمزہ خان شنواری کی 26ویں برسی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے اور پشتو ادب میں بابائے غزل سے موسوم امیر حمزہ خان شنورای کی 26 ویں برسی کی مناسبت سے خیبر پشتو ادبی جرگہ کے زیراہتمام لنڈیکوتل میں ایک اجلاس اور بعد میں ایک آزاد مشاعرہ ڈاکٹر تواب شاہ مسرور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

مشاعرے کے مہمان خصوصی فیصل عمرشنواری تھے جبکہ نظامت کی ذمہ داری حارث شنواری نے اور فریضہ تلاوت کبیرخان کبیر شنورای نے ادا کی ،محفل میں گزشتہ مشاعرے کی روداد زیریستان ظہیر نے پیش کی۔

سب سے پہلے حمزہ بابا کی آنے والے 26ویں برسی کے حولے سے متعلق باہم مشاورت ہوئی اور بعد میں مشاعرہ ہوا جس میں اقبال خیبروال، وسیم اکرم، ممتحن مینہ وال شنواری، نثار افکار، باورخان، حضرت اسلام، غرقاب شفیع اللہ، مفلس شعیب، فدا نادرشاہ نادر، اشرف گل تڑون، ذوالکفل انگار اور ڈاکٹر کلیم دلاور شاہ دلاور سمیت شعر و ادب کے بہت باذوق شرکاء نے حصہ لیا۔

واضح رہے کہ امیر حمزہ خان شنواری 1907 کو قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں پیدا ہوئے تھے اور 18 فروری 1994 کو تقریباً 87 سال کی عمر میں وفات پائی۔

پشتو ادب اور خصوصاً شاعری کے حوالے سے ان کی خدمات کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا شمار عبدالرحمٰن بابا، صاحب سیف و قلم خوشحال خان خٹک اور خان عبدالغنی خان جیسے بلند پایہ شعراء کی صف میں ہوتا ہے۔