طورخم بارڈر پر چار ارب کی کرپشن، سمگلنگ سکینڈل پر 7 افسران معطل

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعظم عمران خان نے طورخم بارڈر پر سمگلنگ میں ملوث سات افسران کو معطل کردیا ہے۔

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ معطل کئے گئے افسران میں دو کلیکٹرز اور ایک اسسٹنٹ کلیکٹر سمیت بارڈر منیجمنٹ کے اہلکار شامل ہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے یہ انکشاف سیالکوٹ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ طورخم کے راستے پاکستان آنے والے کنٹینرز کی چانج پڑتال غلط کی جاتی تھی اور پاکستانی مال میں ہیراپھیری ہوتی تھی جس کی وجہ سے ملک میں سمگلنگ بڑھ گئی تھی اور سمگل شدہ اشیاء پاکستان کی منڈیوں میں پہنچنے ہماری صنعت پر اثر پڑتا تھا اور لوگ بیروزگار ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کے وزیراعظم عمران خان نے اس ہیراپھیری اور سمگلنگ میں ملوث تمام افراد کو معطل کیا ہے اور ان کے خلاف انکوائری شروع کی گئی ہے جس میں الزامات ثابت ہونے پر ان کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے گی۔

طورخم بارڈر پر اس ہیراپھیری کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ملوث افسران نے 350 کنٹینیرز بغیر ڈیوٹی ادا کئے کلئیر کئے تھے جس سے قومی خزانے کو چار ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچا تھا۔

ان افسران نے کنٹینیرز کو کسٹم ڈیوٹی سے بغیر ادائیگی کلئیرنس گزارنے کے لئے خودکار نظام کو بند کیا تھا۔

سمگلنگ اور ہیراپھیری کے اس سکینڈل کے حوالے سے کسٹم انٹیلی جنس نے ایف بی آر کو آگاہ کیا تھا۔

بعد میں وزیراعظم نے اس حوالےسے ایف بی آر کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم کی معاون خصوصی نے آٹے کی اسمگلنگ میں ملوث افسران کی معطلی کا بھی انکشاف کیا اور کہا کہ کوئٹہ کلیکٹوریٹ میں جو آٹا افغانستان اسمگل کیا جا رہا تھا، کسٹم انٹیلی جنس کی رپورٹ پر وزیر اعظم نے ایکشن لیتے ہوئے اس کام میں ملوث دونوں ڈائریکٹرز کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے کو ان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا بھی حکم دیا ہے۔