وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکا دورہ خیبر، قبائلی اضلاع کا پانچ سالہ ہدف مکمل

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی تیزتر اور دیرپا ترقی کو یقینی بنانے کیلئے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار قبائلی اضلاع کیلئے 83 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا ہے جس کا استعمال اسی سال یقینی بنایا جائے گا۔

قبائلی ضلع خیبر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے 7ارب روپے کی لاگت سے باڑہ سے مستک روڈ کو دو رویہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ صوبے میں گورننس پر تنقید کرنے والوں پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ قبائلی اضلاع کا انضمام پانچ سالہ ہدف تھا جسے موجودہ حکومت نے ایک سال کے قلیل عرصے میں مکمل کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عدالتوں اور تمام صوبائی محکموں کی توسیع قبائلی اضلاع تک ممکن بنائی ہے جبکہ 29 ہزار خاصہ دار اور پولیس فورس کو پولیس میں انضمام کیساتھ ساتھ قبائلی عوام کو مفت صحت سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی بھی یقینی بنائی ہے، ان میگا منصوبوں کے علاوہ سینکڑو ں ترقیاتی منصوبے رواں سال اے ڈی پی میں شامل کئے گئے ہیں جس سے قبائلی اضلاع کی تقدیر بدل جائے گی۔

محمود خان نے واضح کیا کہ گزشتہ دورہ خیبر میں 7 ارب روپے کی لاگت سے تختہ بیگ سے متنی بائی پاس سڑک کو دو رویہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس سے قبائلی ضلع اورکزئی اور پاڑہ چنار کے عوام کو براستہ باڑہ پشاور آنے کے لئے سفری سہولیات فراہم کی جائیں گی، قبائلی ضلع خیبر میں دہشت گردی سے متاثرہ سکولوں کی بحالی کیلئے 1.7 ارب روپے کے منصوبہ کے تحت 126 سکولوں میں سے 19 سکولوں کی بحالی کی گئی ہے جبکہ باڑہ میں مزید 50 متاثرہ سکولوں کی بحالی و تعمیر کا کام اگلے ماہ سے شروع کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے ضلع خیبر میں تمام معطل خاصہ دار فور  کی بحالی کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ وادی تیراہ میں بہت جلد ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا جبکہ اقلیتی برادری کیلئے بنائی گئی کرسچن کالونی لنڈی کوتل کا بھی بہت جلد افتتاح ممکن بنایا جائے گا، انصاف روزگار سکیم کے تحت قبائلی نوجوانوں کو بلا سود قرضے فراہم کئے جارہے ہیں جس کے تحت اب تک ایک ارب روپے فراہم کئے گئے ہیں جبکہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو مزید قرضے فراہم کئے جائیں گے تاکہ نوجوان اپنا روزگار خود شروع کر سکیں۔

اس موقع پرایم این اے اقبال آفریدی، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر، ضلع خیبر سے رکن صوبائی اسمبلی شفیق آفریدی و دیگر بھی موجود تھے۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی ضلع خیبر کے دورے کا مقصد یہ ہے کہ عوام کے مسائل براہ راست سن سکوں اور دیکھ سکوں کہ عوام کن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں تاکہ ان کا بروقت ازالہ کر سکوں، میں پورے ملک کو بتانا چاہتا ہوں کہ قبائلی اضلاع کا انضمام پانچ سالہ ٹاسک تھا لیکن موجودہ صوبائی حکومت نے عمران خان کی قیادت میں انضمام کا عمل ایک سال میں ممکن بنایا ہے، نہ صرف انضمام کا عمل بلکہ قبائلی اضلاع کی تاریخ میں پہلی بار جنرل الیکشن کا انعقاد کرانا بھی موجودہ صوبائی حکومت کا انقلابی اقدام ہے، اب ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے نمائندے نہ صرف صوبائی اسمبلی بلکہ صوبائی کابینہ میں بھی موجود ہیں اور قبائلی اضلاع کے عوام کی اُمنگوں کے عین مطابق اپنے اپنے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

انہوں نے جلسہ عام کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مسائل حل کرنا میری اور آپ کے منتخب نمائندوں کی اولین ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ بننے کے بعد سب سے زیادہ دورے قبائلی اضلاع کے کئے ہیں، تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیراعظم عمران خان نے قبائلی اضلاع کے دورے کئے ہیں۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر جگہ اور ہر علاقے کا خود دورہ کروں گا تاکہ گراﺅنڈ پر حالات کا جائزہ لے سکوں اور عوام کی مشکلات کو موقع پر حل کر سکوں، قبائلی اضلاع میں جرگہ نظام اے ڈی آر کے ذریعے بحال کیا ہے، قبائلی علاقوں کی آسامیوں پر صرف قبائلی عوام ہی بھرتی کئے جائیں گے جبکہ قبائلی عوام کو اپنے اضلاع میں مائنز اور منرلز پر پہلا حق دلوانے کیلئے قانون پاس کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے آئندہ سالوں میں قبائلی اضلاع کی تقدیر بدل دیں گے، رواں سال سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ضلع خیبر میں پانی اور آبپاشی کے نظام کو بہتر کیاجائے گا جس میں پانی کے معیار کی جانچ کیلئے لیبارٹری کا قیام، شمسی توانائی پر مبنی پینے کے پانی کی فراہمی کی سکیمز، ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن اور جبہ ڈیم کی تعمیر شامل ہیں، باڑہ ڈیم کی تعمیر سے 1700 ایکڑ اراضی سیراب ہو گی اور 6 میگا واٹ بجلی کی پیداوار بھی ممکن ہو سکے گی ۔

محمود خان نے کہا کہ دریائے باڑہ کینال سسٹم کی ری ماڈلنگ اور توسیع ممکن بنائی جائے گی جبکہ شلمان تا لنڈی کوتل پینے کے صاف پانی کی فراہمی سکیم کیلئے بھی فیزبلیٹی جاری ہے، سڑکوں کی بلیک ٹاپنگ، فارم ٹو مارکیٹ روڈ کی تعمیر، آر سی سی پلوں کی تعمیر، لنڈی کوتل اور شاہ کس میں سپورٹس سٹیڈیمز کی تعمیر جلد ممکن بنائی جائے گی اور تمام قبائلی اضلاع میں مساجد کی سولرائزیشن پر تیز رفتار کام یقینی بنایا جائے گا۔

خطاب کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے مسائل کے خاتمے کیلئے ٹیسکو کو پہلے سے 7 ارب روپے دیئے گئے ہیں جبکہ ضلع خیبر میں بجلی کے تمام تر مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کو صوبے کے دیگر اضلاع کے برابر لانا ہماری ترجیحات ہیں، وزیراعظم احساس پروگرام کے تحت ضم شدہ اضلاع میں غریب خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی جس کو صوبائی حکومت سپورٹ کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا سپاہی ہوں اور اُن کے وژن اور مشن کے مطابق فیصلے اور ترقیاتی کام کئے جائیں گے۔