مصالحتی جرگوں کی تشکیل پر قبائلی پارلیمینٹرین نالاں کیوں؟

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں جرگہ نظام کے لئے ایک الگ تھلگ طریقہ کار اپنانے پر سماجی کارکنان اور وکلا سمیت مقامی سیاستدان اور بالخصوص منتخب نمائندے بھی مخمصے کا شکار ہیں۔ حکومت نے قبائلی لوکل گورنمنٹ قانون 2013 میں ترمیم کی ہے اور قانون میں الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولشن رولز (اے ڈی آر) یعنی مصالحت کے متبادل قوانین شامل کرکے تحصیل کی سطح پر جرگے تشکیل دیئے ہیں۔

ایک نجی ویب سائٹ نے اس حوالے سے قبائلی اضلاع کے مختلف منتخب نمائندگان سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ہے جن میں بعض ایسے بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس قانون کو پڑھنے کی ابھی تک زحمت ہی نہیں کی تھی۔

ایسے نمائندگان میں باجوڑ سے جماعت اسلامی کے رکن صوبائی اسمبلی سراج الدین خان شامل ہیں۔ سراج الدین خان کے ذاتی سیکرٹری نے ان کی ٹی این این کے ساتھ بات کرانے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ایم پی اے صاحب پچھلے کچھ عرصے سے اسلام آباد میں ہیں اور ابھی تک انہوں نے نہ تو خود قانون کو سٹڈی کیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے پارٹی کا کوئی آفیشل موقف سامنے آیا ہے۔

جماعت اسلامی کے ممبر صوبائی اسمبلی کے علاوہ دیگر منتخب نمائندگان میں بھی چند ایک ایسے تھے جنہوں نے یہ قانون اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد پڑھا ہے۔

لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں ترمیم کے ذریعے اے ڈی آر قوانین 26 دسمبر 2019 میں نافذ کئے گئے جن کے تحت چند دن پہلے قبائلی اضلاع خیبر اور مہمند میں مصالحتی کمیٹیاں بھی تشکیل دی جا چکی ہیں جو عوام کے سول مقدمات باالخصوص زمین اور جائیداد سے متعلق کیسز کا فیصلہ کریں گی۔

ان تشکیل دی گئی کمیٹیوں پر اگر ایک طرف فاٹا انضمام کا حمایتی طبقہ سخت تنقید کر رہا ہے کہ ان کے زریعے وہی پرانا ایف سی آر والا نظام نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو دوسری طرف وہ طبقہ بھی کھل کر اس قانون کے خلاف سامنے آیا ہے جو قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا سخت مخالف تھا۔

ٹی این این نے اے ڈی آر قانون کے تحت قبائلی اضلاع میں مصالحتی کمیٹیوں کی تشکیل کے حوالے سے قبائلی اضلاع سے قومی او صوبائی اسمبلی کے اراکین اور سیاستدانوں کی رائے معلوم کی ہے۔

محمد ریاض شاہین ایم پی اے ضلع کرم

قبائلی ضلع کرم سے جمیعت علمائے اسلام ف کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی محمد ریاض شاہین کا کہنا ہے کہ اے ڈی آر قانون سے اب یہ تصدیق ہوگئی ہے کہ یہ علاقے ابھی تک ضم نہیں ہوئے اور قبائلی عوام کے ساتھ انضمام کے نام پر مذاق کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کو پہلے سے ہی ایسے خدشات تھے اس لئے مولانا فضل الرحمان آخر تک انضمام کی مخالفت اور الگ صوبے کے قیام کے موقف پر ڈٹے رہے۔ ممبر صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ایف سی آر میں جس طرح پولیٹیکل ایجنٹ اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ مقامی ملکان اور مراعات یافتہ طبقے کے ذریعے عوام پر حکمرانی کرتے تھے اسی طرح اب ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر ان مصالحتی کمیٹیوں کی مدد سے لوگوں پر اپنے فیصلے نافذ کریں گے۔

محمد ریاض نے مزید وضاحت کی کہ ڈی سیز اور اے سیز نے یہ تمام جرگہ ممبران اپنی مرضی سے چنے ہیں جن میں زیادہ تر وہی لوگ شامل ہیں جو انضمام سے پہلے بھی ایسے ہی جرگے کیا کرتے تھے اور ان جرگوں کے فیصلے جانبداری اور دوسرے مسائل کی نشاندہی کی وجہ سے خاصے بدنام ہوگئے تھے۔

کرم ضلع میں خیبر اور مہمند کی طرح ابھی تک مصالحتی کمیٹی ممبران کے ناموں کا اعلان تو نہیں ہوا لیکن مقامی ایم پی اے کہتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر نے اس کے لئے پہلے سے ہی اپنی مرضی کے مطابق نام فائنل کرلئے ہیں جن میں منتختب نمائندگان سمیت کسی بھی قبیلے کے مشران سے مشاورت کی زحمت تک گوارا نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم تمام منتخب نمائندوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ جس طرح ایف سی آر کے زمانے میں قبائلی اضلاع کے نمائندگان ملک کے اور علاقوں کی قانون سازی میں تو حصہ لے سکتے تھے لیکن فاٹا کے لئے قانون سازی کا ان کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا بالکل اسی طرح اب بھی قبائلی نمائندگان کو ایسی قانون سازی کی کانوں کان خبر نہیں ہونے دی جاتی جو خاص طور پر ان کے اپنے علاقوں کے لئے کی جاتی ہے۔

شفیق شیر افریدی خیبر

خیبر ضلع سے بلوچستان عوامی پارٹی کے ممبر صوبائی اسمبلی شفیق شیر نے بھی محمد ریاض سے اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے قانون سازی میں ان لوگوں کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا اگر معدنیات، خاصہ داروں کے حوالے سے بلز اور اب اے ڈی آر قانون کے حوالے سے قبائلی اضلاع کے 21 نمائندوں کو اعتماد میں لیا جاتا تو ایک قانون پر بھی اتنا واویلا نہ مچتا۔

اے ڈی آر قانون کے حوالے سے شفیق شیر نے کہا کہ قانون کے تحت جرگے کا قیام ایک احسن اقدام ہے لیکن جس طریقے سے یہ جرگے بنائے گئے ہیں ان پر ان کے تحفظات ہیں۔ ممبر صوبائی اسمبلی نے مزید کہا کہ چاہئیے تو یہ تھا کہ ڈپٹی کمشنر منتخب نمائندگان، علاقے کے سرکردہ دوسرے مشران سمیت مختلف مکاتب فکر سے مشاورت کے بعد مصالحتی کمیٹی یا جرگہ ممبران کا انتخاب کرتے لیکن انہوں نے ایسا گوارا ہی نہیں کیا اور اپنا فیصلہ عوام پر تھوپ دیا۔

اس سوال پر کہ صوبائی حکومت میں اتحادی جماعت ہونے کے باوجود ان کو قانون سازی سے بے خبر رکھا گیا، انہوں نے حکومت سے کوئی شکایت کی ہے یا نہیں تو شفیق شیر نے انکشاف کیا کہ ان سمیت خود پی ٹی آئی کے قبائلی ایم پی ایز کو بھی یہی گلہ ہے کہ ان کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور انہوں نے کئی بار وزیراعلیٰ سے بھی یہ شکایت کی ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوسکی ہے۔

 اقبال افریدی باڑہ

خیبر ضلع سے پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی محمد اقبال افریدی نے شفیق شیر کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ پی ٹی آئی کے اپنے اراکین اسمبلی بھی قبائلی علاقوں کے حوالے سے قانون سازی سے بے خبر رکھے جاتے ہیں۔

انہوں نے اے ڈی آر کے بارے میں کہا کہ چونکہ قبائلی اضلاع میں زمین کے ملکیت کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے اس لئے عدالتوں میں ایسے فیصلے ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا ایسے سول مقدمات کے لئے جرگہ ایک بہترین آپشن ہے لیکن جس طرح اے ڈی آر کے تحت جرگے تشکیل دئے گئے ہیں ان پر تقریباً سارے عوام نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

ممبر قومی اسمبلی نے کہا ‘میں خود ایسے کسی جرگے کو نہیں مانتا اور اس قانون میں ترمیم کے حوالے سے میں مسلسل وزیراعلیٰ سے رابطے میں ہوں’

انہوں نے کہا کہ قوی امکان ہے کہ آئندہ چند ہی دنوں میں اس قانون کے خلاف کئی لوگ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے کیونکہ اب وہ لوگ اپنے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام ابھی ارتقائی مرحلے میں ہے اور  اس مرحلے میں ایسے قوانین اور فیصلوں سے عوام انضمام کے پورے عمل سے بدظن ہوجائیں گے۔

نثار مہمند

نثار مہمند قبائلی ضلع مہمند سے عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ ٹی این این سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جرگہ کی صدیوں پرانی تاریخ ہے جس کو ایک بہت بڑا مقام حاصل ہے لیکن اے ڈی آر کے تحت جو جرگے تشکیل دئے گئے ہیں یا قائم کئے جا رہیں ہیں ان کو یہ عوام سرے سے جرگے ہی نہیں مانتے۔

‘یہ جرگے بنے تو زمین کی ملکیت کے مسائل کے تصفیے کے لئے ہیں لیکن یاد رکھیں یہ لوگ ان معاملات کو مزید بھگاڑیں گے ‘ نثار مہمند نے کہا اور وضاحت کی کہ ان مصالحتی کمیٹیوں میں ضلعی انتظامیہ نے اپنی مرضی سے ایسے لوگ شامل کئے ہیں جن کو جرگے کے اصولوں کا سرے سے اندازہ ہی نہیں ہے۔

خیبر ضلع میں تشکیل کردہ مصالحتی کمیٹیوں کے بارے میں ممبران اسمبلی اور عمائدین کے اعتراضات ہیں کہ ان میں وہی پرانے ملکان شامل کئے گئے ہیں لیکن مہمند کی کمیٹیوں کے حوالے سے نثار مہمند کہتے ہیں کہ زیادہ تر کم عمر کرپٹ افراد منتخب کئے گئے ہیں جو ڈپٹی کمشنر کو لگتا ہے کہ ان کے آلہ کار ہونگے اور ان کے ذریعے اپنے فیصلے منواسکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اے ڈی آر قانون کی اس شق پر بھی انہیں اعتراض ہے جس کے تحت جرگہ کا فیصلہ اگر ایک بار ڈی سی نے فائنل کردیا تو وہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکے گا۔ نثار مہمند کا کہنا تھا کہ انضمام کے بعد بھی ڈی سی کو ایسے اختیارات دینا ان کی سمجھ سے بالاتر ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ عوام ہم اور ان جیسے تمام سیاستدانوں اور سماجی اراکین کے پیچھے پڑ جائیں گے جہنوں نے انضمام کی حمایت کی تھی۔

شفیق آفریدی باڑہ

دوسری جانب باڑہ سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے شفیق آفریدی نے بھی قانون میں ڈی سی کو زیادہ اختیارات دینے پر اپنی حکومت پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کو اس حوالے سے مقامی آبادی کی جانب سے بہت پریشر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے جرگہ ممبران کے انتخاب پر اعتراض کے ساتھ ساتھ جرگہ کا فیصلہ عدالت میں چیلنج نہ ہونے پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور تجویز پیش کی کہ جرگہ کا فیصلہ نافذ کرنے کے لئے فائنل اختیار ڈی سی کے بجائے عدالت کو دیا جانا چاہئے اور یا اس کے اوپر ایک اور جرگہ بٹھانا چاہئے۔

اے ڈی آر کا انضمام کے خلاف استعمال

اے ڈی آر پر اگر ایک طرف منتخب نمائندے اور انضمام کے حمایت یافتہ لوگ غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں تو دوسری جانب انضمام کے مخالفین بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ کیسے انضمام کے نام پر ان کے ساتھ دھوکا کیا گیا۔

اس حوالے سے خیبر باڑہ سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر اور انضمام کے سخت مخالف حمیداللہ جان نے کہا کہ حکومت نے بالآخر یہ تسلیم کرلیا ہے کہ عدالتوں کو بھی ہماری جائیدادوں کے کیسز میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ زمینوں کے ریکارڈ کی عدم موجودگی عدالتی فیصلوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا افسوس کا مقام ہے کہ کل تک جو لوگ جرگہ کے مخالف تھے آج وہی لوگ جرگہ میں نمائندگی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اے ڈی آر پر ان کے بھی تحفظات ہیں کہ ان کمیٹیوں میں ڈی سی اور اے سی کے بجائے مقامی مشران کی جانب سے ممبران منتخب کئے جانے چاہئے تھے۔

تصویر کا دوسرا رخ

پارلیمنٹیرینز کی جانب سے اے ڈی آر اور اس قانون کے تحت تشکیل دیئے جانے والے جرگوں پر اعتراضات کے حوالے سے ایک قبائلی ضلع کے ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں موجودہ وقت میں ایک بڑا خلا موجود ہے، پولیس نظام صحیح طریقے سے نافذ نہیں ہے، مقدمات درج نہیں ہو رہے جس کی وجہ سے عدالتیں بھی کام نہیں کر رہیں۔

نام نہ بتانے کہ شرط پر انہوں نے بتایا کہ قبائلی اضلاع میں کوئی پولیس افیسر ڈیوٹی کے لئے تیار نہیں ہے، ابھی تک درجنوں سی ایس پی افسران کے انٹرویو ہوچکے ہیں اور سب نے ان اضلاع میں ڈیوٹی سے انکار کیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ایسے حالات میں حکومت کے ساتھ نظام چلانے کے لئے اے ڈی آر ہی واحد حل تھا جس کے تحت علاقائی مسائل کے فیصلے علاقہ مشران ہی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد اور اے ڈی آر نظام کے لاگو ہونے سے پہلے بھی ضلعی انتطامیہ کے افسران علاقائی مسائل جرگوں کے ذریعے ہی حل کرتے تھے لیکن وہ جرگے غیر رسمی ہوتے تھے لیکن اب انہوں نے باقاعدہ قانونی شکل اختیار کرلی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مصالحتی کمیٹی کے اراکین ان سمیت تمام ڈی سیز اور اے سیز نے مکمل چھان بین کے بعد منتخب کئے ہیں جن کو نہ صرف جرگوں کا پہلے سے تجربہ ہے بلکہ عوام میں اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے الزام لگایا کہ کمیٹیوں اور جرگوں کے خلاف اب وہ سیاستدان آواز اٹھا رہے ہیں جنہوں نے ان میں اپنے بندے شامل کرنے کی کوششیں کی تھیں لیکن ناکام ہوگئے تھے۔

*یہ تحریر ٹی این این پر سے لیا گیا ہیں*