پشاور کی بچیوں کے لیے مفت رکشہ سروس

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پشاور کے علاقے ورسک کے رہائشی رکشہ ڈرائیور عرب شاہ قریبی علاقوں کی بچیوں کو مفت میں سکول اور مدرسے تک پک اینڈ ڈراپ کی سہولت فراہم کرتے ہیں جس کے بعد وہ اپنی گزر بسر کے لیے مزدوری کرتے ہیں۔

عرب شاہ نے ٹرائبل پریس کو بتایا کہ کہ لڑکیوں کی تعلیم بہت ضروری ہے اور مفت پک اینڈ ڈراپ کی سہولت کے پیچھے واحد مقصد اُن بچیوں کو سکول لے کر جانا ہے جو گاڑی کا کرایہ برداشت نہیں کر سکتیں

ان کا کہنا تھا کہ میں بچیوں کو مفت پک اینڈ ڈراپ کی سہولت گذشتہ چھ سال سے دے رہا ہوں تاکہ کوئی بچی گاڑی کی وجہ سے سکول سے محروم نہ رہے۔ میری اپنی بہنیں اس وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکیں لہذا میں چاہتا ہوں کہ باقی بچیاں تعلیم حاصل کریں۔

انہوں نے مزید بتایہ کہ وہ صبح تقریباً سات بجے بچوں کو گھروں سے پک کرتے ہیں اور دوپہر ایک بجے ان کو سکول سے واپس ان کے گھروں میں چھوڑتے ہیں اور یہ ان کا روزانہ کا معمول ہے۔

عرب شاہ نے بتایا: ’پک اینڈ ڈراپ کی ڈیوٹی کے بعد میں خود اپنے لیے کمانے کے لیے رکشے پر مزدوری کرتا ہوں۔ روازانہ پک اینڈ ڈراپ پر سی این جی کا تقریباً 500 روپے کا خرچہ آتا ہے جو مزدوری سے پورا کرتا ہوں کیونکہ گھر کے خرچے کا بوجھ میرے اوپر نہیں ہے، وہ بڑے بھائی سنبھال رہے ہیں۔‘

عرب نے بتایا کہ انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے لیکن ایک پرچے میں ناکام ہوجانے کی وجہ سے ڈگری مکمل نہ کر سکے، لیکن ان کا ارادہ ہے کہ بی اے کرنے کے بعد وہ ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کرسکیں۔

اس سوال پر کہ کیا بچیوں کے والدین آپ پر اعتماد کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ’بچیوں کے والدین کا مجھ پر پورا بھروسہ ہے کیونکہ میں چار سال سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے۔‘

انہوں نے بتایا: ’ان میں سے زیادہ تر بچیاں ایسی بھی ہیں جو پہلے سکول نہیں پڑھتی تھیں۔ میں نے ان کے والدین سے بات کی اور انہیں سکول میں داخل کروایا اور اب ان کی پوری ذمہ داری میرے اوپر ہے کہ ان کو سکول لے کر جاؤں اور پھر واپس گھر تک چھوڑوں۔‘

ورسک کے گاؤں دارمنگی سے تعلق رکھنے والے انعام اللہ، جن کی دو بہنیں عرب شاہ کے ساتھ سکول آتی جاتی ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ چھ سال تک ان کی بہنیں پیدل سکول آتی جاتی تھیں کیونکہ گاڑی والے مہینے کے تقریباً دو ہزار روپے لیتے ہیں لیکن اب اللہ کا شکر ہے عرب شاہ نے ہمارا کام آسان کر دیا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’اس سے بہتر اور کیا سہولت ہو سکتی ہے کہ میری بہنیں مفت کی گاڑی میں سکول آتی جاتی ہیں اور تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔‘