پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین کی درخواست ضمانت مسترد

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پشاور ہائی کورٹ نے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی درخواست ضمانت منسوخ کرکے انہیں ڈیرہ اسمٰعیل خان جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ صوبائی دارالحکومت کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج محمد یونس نے ڈیرہ اسمٰعیل خان پولیس کی پی ٹی ایم سربراہ کو ڈی آئی خان منتقل کرنے کی درخواست منظور کی۔

واضح رہے کہ منظور پشتین کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف ائی آر) ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ہی درج ہے۔ عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران منظور پشتین کو پیش نہیں کیا گیا، تاہم ان کی نمائندگی ان کے وکیل شہاب خٹک، فرہاد آفریدی اور ایڈووکیٹ فضل نے کی۔

اس دوران ان کے وکیل کی جانب سے منظور پشتین کی راہداری ضمانت کی درخواست کی گئی، جسے مسترد کردیا گیا۔

خیال رہے کہ منظور پشتین کو ڈیرہ اسمٰعیل خان منتقل کرنے کے بعد جسمانی ریمانڈ کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کو 27 جنوری کو علی الصبح پشاور کے شاہین ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا تھا۔

منظور پشتین کے خلاف مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 506 (مجرمانہ دھمکیوں کے لیے سزا)، 153 اے (مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کا فروغ)، 120 بی (مجرمانہ سازش کی سزا)، 124 (بغاوت) اور 123 اے (ملک کے قیام کی مذمت اور اس کے وقار کو تباہ کرنے کی حمایت) کے تحت درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کی نقل کے مطابق 18 جنوری کو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں منظور پشتین اور دیگر پی ٹی ایم رہنماؤں نے ایک جلسے میں شرکت کی جہاں پی ٹی ایم سربراہ نے مبینہ طور پر کہا کہ 1973 کا آئین بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی۔ ایف آئی آر کے مطابق پشتین نے ریاست سے متعلق مزید توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کیے۔