کورونا وائرس، خیبر پختونخوا کے 5 اضلاع حساس قرار

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

چین کے بعد ایشیاء، امریکہ اور یورپ منتقل ہونے والے مہلک کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے بھی صوبے کے پانچ اضلاع کو انہتائی حساس قرار دے دیا ہے۔

ان حساس اضلاع میں ایبٹ آباد، مانسہرہ، کوہستان، بٹگرام اور شانگلہ شامل ہیں جہاں پر صوبائی حکومت نے الرٹ جاری کرتے ہوئے پانچوں اضلاع کے ہسپتالوں میں علیحدہ وارڈز قائم کرنے سے ساتھ ساتھ چین سے آنے والے شہریوں کی سکرنینگ کی ہدایات دی ہیں۔

اس سلسلے ميں باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ویکسی نیشن کاؤنٹر قائم کیا گیا ہے جہاں پر چین سے آنے والے مسافروں کا چیک اپ کرنے کیلئے سول ایوی ایشن اور محکمہ صحت کا عملہ تعینات ہے۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ اس حوالے سے گفتگو میں ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے صحافی خالد خان نے بتایا کہ حکومت نے ضلع شانگلہ کو تو کورونا وائرس کے لئے حساس قرار دیا ہے لیکن وہاں پر ابھی تک کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے اور نا ہی کورونا وائرس کے بارے میں عوام کو آگاہی دی گئی ہے۔

ٹرائبل پریس کی جانب سے اس سلسلے میں رابطے پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے ڈاکٹر محمد زیب نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں یہ پانچ اضلاع اس لیے بھی حساس قرار دیے گئے ہوں گے کیوںکہ یا تو ان اضلاع کے موسم یا جانوروں میں کورونا وائرس آسانی سے نمو پا سکتا ہے یا ان اضلاع کے لوگوں کا کاروباری سلسلے میں چین آنا جانا ہوگا۔

ڈاکٹر محمد زیب کے مطابق چین سمیت دنیا کے کئی ممالک میں پائے جانے والا کورونا وائرس مختلف جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے اور یہ وائرس انسان کے نظام تنفس کو متاثر کرتا ہے۔

کورونا وائرس کیا ہے؟

ڈاکٹر محمد زیب کے مطابق کرونا ایک مہلک وائرس کا نام ہے جو عام طور پر جانوروں اور مچھلوں میں پایا جاتا ہے اور یہ وائرس دیگر جانوروں سمیت انسانوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وائرس سے متاثرہ انسان کا نظام تنفس متاثر ہوتا ہے اور انسان عام طور پر نزلہ، زکام یا گلے کی خارش جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس اگر کسی شحص کے جسم میں داخل ہوتا ہے تو وہ دو ہفتوں کے اندر اندر اپنا اثر شروع کر دیتا ہے، جسم میں درد، کھانسی، بخار اور نزلہ زکام کی شکایت ہوتی ہے۔

یہ وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

ڈاکٹر محمد زیب نے بتایا کہ یہ وائرس بہت جلد کسی جانور یا انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے اور عموماً جب ہم کسی سے آمنے سامنے بات کرتے ہیں تو سانس کے ذریعے یہ دوسرے انسانوں میں ٹرانسفر ہو جاتا ہے اور کسی سے ہاتھ ملانا بھی اس وائرس کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص کورونا وائرس سے متاثرہ بندے سے دو میٹر کی دوری پر ہو اور اسے بات کر رہا ہو تو وہ شحص بھی اس وائرس کا شکار ہو سکتا ہے۔

وائرس سے بچاو کیسے ممکن ہے ؟

ڈاکٹر محمد زیب کے مطابق تاحال اس وائرس سے بچنے کے لئے نہ تو کوئی ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج لیکن پھر بھی ہر کسی کو چاہیے کہ وہ احتیاطی طور پر ماسک پہنا کرے اور اگر محسوس ہو کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہو گیا ہے اور علامات بھی ظاہر ہونا شروع ہوئی ہیں تو فوری طور ڈاکٹر سے معائنہ کروائے۔

یاد رہے مہلک کورونا وائرس چین کے صوبے ہیوبی کے علاقے ووہان میں وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے اور چین میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی کم از کم تعداد 81 بتائی جا رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے 28,000 سے زائد طلبا چین میں رہائش پذیر ہیں جن میں 500 طلبا ووہان شہر میں ہیں۔

اس سلسلے میں اتوار کو دفتر خارجہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے شہر وویان میں رہائش پذیر 500 سے زائد طلبا سمیت تمام پاکستانی کورونا وائرس سے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور اب تک کسی بھی پاکستانی کے متاثر ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔