قبائلی اضلاع میں مختلف دہشت گردی کے واردات، 4 سہولت کار گرفتار

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں قبائلی رہنماء سمیت دو افراد اغوا کے بعد قتل کر دیے گئے جبکہ ضلع اورکزئی میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں تین عسکریت پسند مارے گئے۔

جمرود پولیس کے مطابق تحصیل جمرود علاقہ لالا کنڈاؤ سے قبائلی رہنماء مشر ولایت شاہ منیاخیل کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائیلی مشر ولایت شاہ تین روز قبل اپنے آبائی علاقہ تودہ میلہ سے لاپتہ ہوگئے تھے جن کی لاش ہفتہ کے روز جمرود کے علاقہ لالا کنڈاؤ چیک پوسٹ کے قریب برآمد ہوئی جن کو پستول سے فائرنگ کرکے قتل کرنے کے بعد پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی تھی۔

لاش برآمد ہونے کے بعد ایس ایچ او اکبر آفریدی نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے جمرود سول ہسپتال منتقل کردیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کرکے تحقیقات شروع کردیں۔

علاوہ ازیں جمرود کے علاقے غنڈی میں الف شاہ کو اغوا کرنے کے بعد نشہ اور چیز دے کر بے ہوشی کی حالت میں ویرانے میں پھینک دیا گیا تھا، ان کو ہسپتال منتقل کردیا گیا تاہم جانبر نہ ہوسکے اور ہسپتال میں چل بسے۔

دوسری جانب قبائلی ضلع اورکزئی میں سیکیورٹی فورسز اور حساس اداروں کی مشترکہ کارروائی کے دور ان فورسز کے ساتھ جھڑپ میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

فورسز نے دہشت گردوں کے 4 سہولت کاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اداروں کی اطلاع پر ضلع اورکزئی کی لوئر تحصیل کے علاقہ بیزوٹ میں کارروائی کی گئی جس میں پاک آرمی، سی ٹی ڈی اور ایف سی نے حساس اداروں کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔

کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مبینہ دہشت گردوں کے 4 سہولت کاروں کو بھی حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کاتعلق ضلع اورکزئی،خبیر اور درہ آدم خیل سے بتایا جاتا ہے۔