شمالی وزیرستان میں گورنمنٹ ہائی سکول حسوخیل پر تعمیراتی کام شروع

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں گورنمنٹ ہائی سکول حسوخیل پر تعمیراتی کار شروع ہوگیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ سکول آپریشن ضرب عضب کے دوران تباہ ہوگیا تھا۔ مقامی شخص زاہد شاہ نے ٹی این این کے ساتھ بات چیت کے دوران بتایا کہ سکول کی عمارت پر زورو شور سے کام جاری ہے اور چند دنوں میں سکول دوبارہ تعمیر ہوجائے گا۔

ایک دوسرے نوجوان شیر احمد نے ٹی این این کو بتایا’ ہم مطمئن ہے، سکول پرتعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے، پہلے سکول میں کمرے اور باقی سہولیات نہیں تھی جس کی وجہ سے طلباء کو پڑھنے میں دشواری پیش آتی تھی لیکن ٹی این این پر رپورٹ نشر ہونے کے بعد اس پرتعمیراتی کام شروع ہوگیا ہے جس سے ہم بہت خوش ہیں اور ٹی این این کا شکریہ ادا کرتے ہیں’

مقامی شخص محمد اعظم شاہ نے بھی کہا کہ شمالی وزیرستان کے طلباء کا بہت وقت ضائع ہوا ہے اور یہاں سکولوں کی حالت بھی ابتر ہے ایسے میں سکولوں کی دوبارہ تعمیر سے طلباء کا پڑھائی میں دل لگے گا۔ خیال رہے کہ کچھ عرصہ پہلے ٹی این این پر  گورنمنٹ ہائی سکول حسوخیل کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں سکول کی ابتر حالت کے حوالے سے بات کی گئی تھی۔

سکول کے پرنسپل نے ٹرائبل پریس کو بتایا تھا کہ گورنمنٹ ہائی سکول حسوخیل آپریشن ضرب عضب سے پہلے ٹھیک تھا لیکن اس کے بعد اس کی عمارت تباہ ہوگئی، کمرے، باتھ رومز خراب ہوگئے تھے اور بچوں کو پڑھنے میں مشکلات پیش آرہی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ سردی ہو یا گرمی کمرے اور باقی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کھلے اسمان تلے پڑھنے پرمجبور ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ سکول کی عمارت کے لیے فنڈ مہیا کیا جائے اور بجلی اور پانی کی سہولت بھی دی جائے کہ اس طرح حسوخیل علاقے کے بچے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکے۔

سکول کے پرنسپل نے یہ بھی کہا تھا کہ سکول میں پرنسپل کا دفتربھی نہیں ہے اور اس کے علاوہ نزدیک کوئی ہائی سکول بھی نہیں ہے جہاں بچے جاکر پڑھ سکیں۔ پرنسپل نے تجویز دی تھی کہ اگر گورنمنٹ حسوخیل ہائی سکول کو ہایئر سیکنڈری کا درجہ دے دیا جائے تو نہ صرف حسوخیل کے بچے بلکہ نزدیک علاقوں کے طلباء کو بھی دور جانے سے چھٹکارا مل جائے گا۔