خیبرپختونخوا: 65 فیصد این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ، بینک اکاؤنٹس منجمد

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبرپختونخوا حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط کے مطابق فنڈنگ اور منصوبوں کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر صوبے میں کام کرنے والی 65 فیصد غیر سرکاری تنظیموں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر کے ان کی رجسٹریشن منسوخ کردی۔

صنعتی اور سماجی بہود کے محکمے کے ذرائع نے بتایا کہ صوبے بھر میں مختلف شعبہ جات میں 5 ہزار 931 این جی اوز کام کررہی تھیں جس میں سے 3 ہزار 851 کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے حکومت نے این جی اوز کا جائزہ لیا تھا جس کی روشنی میں ان کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ سماجی بہبود نے 3 ہزار 838 این جی اوز میں سے 3 ہزار 30 کو غیر رجسٹرڈ کیا جبکہ صنعتی ڈپارٹمنٹ نے اپنے پاس درج ایک ہزار 97 این جی اوز میں سے 821 کی رجسٹریشن منسوخ کیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کوئی این جی او دہشت گردی کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے یا ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں پائی گئی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ این جی اوز کے جائزے کا عمل مئی 2019 میں شروع ہوا تھا، اس وقت وفاقی اور صوبائی حکومت کو خیبر پختونخوا میں کام کرنے والی 80 این جی اوز کی سرگرمیوں پر شک تھا لیکن محکمہ انسداد دہشت گردی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ سب کسی قسم کی ریاست مخالف سرگرمی یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت میں ملوث نہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے این جی اوز کو 9 صفحات پر مشتمل فارم تقسیم کیے تھے تا کہ وہ اپنے امور کی تفصیلی معلومات فراہم کریں۔