قبائلی اضلاع میں مصالحتی جرگوں کا قیام

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں حکومت کی جانب سے مصالحتی جرگوں کے قیام نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔  جرگوں کے پرانے نظام سے مماثلت سمیت ان میں نوجوانوں اور خواتین کی عدم شمولیت اور ان کی قانونی حیثیت پر بھی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔

ضم اضلاع میں عدالتوں پر بوجھ کم کرنے اور معمولی مقدمات کو جرگے کے ذریعے حل کرنے کیلئے نہ صرف خیبر پختونخوا کی ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل (مصالحتی جرگہ) کے ماڈل کو ان علاقوں تک توسیع دی گئی ہے جس کے تحت تھانوں کی سطح پر غیرجانبدار جرگے قائم کئے جاتے ہیں بلکہ ان علاقوں میں جرگہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کی خاطر خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں ترمیم کے ساتھ الٹرنیٹیو ڈسپیوٹ ریزولوشن (اے ڈی آر)  قوانین کے تحت بھی وہاں تحصیل کی سطح پر الگ طرز کے جرگے قائم کئے گئے ہیں۔

گزشتہ روز مختلف اضلاع میں ان ڈی آر سیز اور اے ڈی آرز کے ممبران سے حلف لیا گیا لیکن بعض حلقوں کی جانب سے اے ڈی آر جرگوں یا کمیٹیوں پر مسلسل تنقید کی جا رہی ہے کہ اس میں وہی پرانے ایف سی آر کے دور کی جھلک دکھائی دے رہی ہے اور پولیٹیکل ایجنٹ اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کی جگہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو  قبائلی عوام پر مسلط کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کے بعد اے ڈی آر قوانین کے تحت جو ثالثی کمیٹیاں بنی ہیں یا بنیں گی اس میں چالیس تک ممبران ہوں گے۔ ان ممبران میں تیس مقامی قبائل سے چھانٹی کے بعد لئے جائیں گے جبکہ دس ضلعی انتظامیہ کے نمائندگان ہوں گے۔

ثالثی کونسل کو دیوانی مقدمات سے متعلق جو بھی کیس آئے گا اس کے لئے اسسٹنٹ کمشنر ان کمیٹی میں سے تین یا چار افراد پر مشتمل جرگہ تشکیل دے گا جس میں فریقین کی کوئی مرضی نہیں شامل نہیں ہوگی۔

جرگہ کے فیصلے سے اختلاف کی صورت میں فریقین اسسٹنٹ کمشنر کو اس کے خلاف درخواست دے سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ فیصلے کے ایک ماہ کے اندر اندر ڈپٹی کمشنر کو بھی درخاست دے سکتے ہیں۔ اے ڈی آر رولز کے تحت اس صورت میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے سنایا جانے والا فیصلہ حتمی ہوگا اور فریقین کو اسے کسی بھی عدالت میں چیلنج کرنے کا اختیار بھی نہیں ہوگا۔

شاور ہائی کورٹ کے وکیل فرہاد آفریدی کا کہنا ہے کہ اے ڈی آر جرگوں کا قیام تو قانونی ہے لیکن قبائلی علاقوں میں جس طریقے سے یہ تشکیل دیے گئے ہیں وہ قانون سے مکمل طور پر متصادم ہے کیونکہ ان میں ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو عدلیہ کے بھی اختیارات دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے حوالے سے سپریم کورٹ پہلے ہی احکامات جاری کر چکی ہے کہ کوئی سرکاری افسر مقامی لوگوں کے مسائل کے تصفیے کے لئے بنائے جانے والے جرگے کی نگرانی نہیں کرسکتا۔ عدالت عظمیٰ نے یہ احکامات قبائلی اضلاع میں انٹریم گورننس ریگولیشن (آئی جی آر) کالعدم قرار دیتے وقت جاری کئے تھے۔

ٹرائبل پریس سے بات کرتے ہوئے فرہاد آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ نہ تو معطل ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی اور فیصلہ سامنے آیا ہے اس کے باوجود اے ڈی آر رولز کے تحت انتظامی افسران کو عدلیہ کے اختیارات دینا سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

قانونی ماہر نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد اس طرح کے قوانین کے ذریعے قبائلی علاقوں کی جداگانہ حیثیت برقرار رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ سارا معاملہ بیوروکریسی کی ملی بھگت ہے کیونکہ یہ لوگ پرانے فاٹا میں بے تاج بادشاہ ہوا کرتے تھے لیکن انضمام کے بعد ان کے اختیارات محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور اب مختلف طریقوں سے یہ افسران دوبارہ کسی نئی شکل میں وہی پرانا نظام لاگو کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اے ڈی آر میں دیوانی مقدمات میں عدالت دوسری یا تیسری پیشی پر فریقین کو اختیار دے دیتی ہے کہ وہ عدالت کارروائی آگے بڑھانا چاہتے ہیں یا اپنا فیصلہ جرگہ کے سپرد کرنا پسند کرتے ہیں۔ جرگہ کے فیصلے کیخلاف فریقین کو عدالت سے دوبارہ رجوع کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوتا ہے لیکن قبائلی اضلاع کے اے ڈی آر رولز میں جرگہ کا فیصلہ صرف اسسٹنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں چیلنج ہو سکتا ہے اور ڈپٹی کمشنر جو بھی فیصلہ صادر کرتا ہے فریقین وہ کسی اور عدالت میں چیلنج نہیں کرسکتے۔

ٹرائبل پریس سے بات کرتے ہوئے فرہاد آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ نہ تو معطل ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی اور فیصلہ سامنے آیا ہے اس کے باوجود اے ڈی آر رولز کے تحت انتظامی افسران کو عدلیہ کے اختیارات دینا سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

قانونی ماہر نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد اس طرح کے قوانین کے ذریعے قبائلی علاقوں کی جداگانہ حیثیت برقرار رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ سارا معاملہ بیوروکریسی کی ملی بھگت ہے کیونکہ یہ لوگ پرانے فاٹا میں بے تاج بادشاہ ہوا کرتے تھے لیکن انضمام کے بعد ان کے اختیارات محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور اب مختلف طریقوں سے یہ افسران دوبارہ کسی نئی شکل میں وہی پرانا نظام لاگو کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اے ڈی آر میں دیوانی مقدمات میں عدالت دوسری یا تیسری پیشی پر فریقین کو اختیار دے دیتی ہے کہ وہ عدالت کارروائی آگے بڑھانا چاہتے ہیں یا اپنا فیصلہ جرگہ کے سپرد کرنا پسند کرتے ہیں۔ جرگہ کے فیصلے کیخلاف فریقین کو عدالت سے دوبارہ رجوع کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوتا ہے لیکن قبائلی اضلاع کے اے ڈی آر رولز میں جرگہ کا فیصلہ صرف اسسٹنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں چیلنج ہو سکتا ہے اور ڈپٹی کمشنر جو بھی فیصلہ صادر کرتا ہے فریقین وہ کسی اور عدالت میں چیلنج نہیں کرسکتے۔

قبائلی اضلاع میں تحصیل کی سطح پر مصالحتی جرگے بنانے کے لئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں 26 دسمبر 2019  کو ترمیم منظور کرائی گئی جس کے تحت چند روز پہلے خیبر اور مہمند قبائلی اضلاع کے اے ڈی آر جرگوں کے ممبران سے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنران نے باقاعدہ حلف لیا ہے۔