خیبرپختونخوا: بچوں کے ساتھ زیادتی کی روک تھام کیلئے قانون سازی کا فیصلہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبرپختونخوا حکومت نے بچوں کے ساتھ زیادتی اور تشدد کی روک تھام کیلئے فوری قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کی سربراہی میں 13 رکنی خصوصی کمیٹی بنا دی گئی ہے جس میں وزرا، صوبائی حکومت اور اپوزیشن کے اراکین شامل ہیں۔

اعلامیے کے مطابق کمیٹی موجودہ قوانین کاجائزہ لے کرزیادتی کیس میں سخت قوانین تجویز کرے گی۔ کمیٹی زیادتی کیس کی تیز سماعت اور متاثرہ خاندان کو فوری انصاف کی فراہمی کے لئے سفارشات مرتب کرے گی۔

کمیٹی ایک ماہ کے اندر رپورٹ مرتب کرکے اسمبلی میں پیش کرے گی۔  اعلامیے کے مطابق کمیٹی سفارشات مرتب کرتے وقت علمادین، ماہرین قانون اور ماہرین نفسیات سے بھی مشاورت کرے گی اور کمیٹی کو سخت قوانین کے ساتھ اصلاحات کے امور بھی سامنے لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

چائلڈ رائٹس موومنٹ کے مطابق 2019 کے پہلے چھ ماہ میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے 1300 سے زیادہ واقعات پیش آئے ہیں جبکہ 2018 کے پہلے چھ ماہ میں یہ تعداد 2300 سے زیادہ تھی۔ ذرائع ابلاغ میں شائع شدہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے 3800 واقعات پیش آئے تھے۔