احمدزئی وزیر کے گاڑیاں افغانیوں کے قبضے سے آزاد کرا دیئے جائے

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں پاک افغان بارڈر کی بندش کے خلاف پاک افغان ٹرانسپورٹ یونین کا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پاک افغان ٹرانسپورٹ یونین کے صدر ملک سردار علی وزیر رسول خان، عجب نور اور دیگر مشران نے شرکت کی.

پاک افغان بارڈر کے صدر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ھوئے کہا کہ پاک افغان بارڈر کی بندش افغان ٹرانسپورٹرز کی آپس میں چپقلش کی وجہ سے ھوا ہے افغان ٹرانسپورٹرز نیک محمد افغانی اور غازی اورگونی و سلام سلیمان خیل کے درمیان ٹرانسپورٹ کا تنازعہ ہیں لیکن ظلم احمدزئی وزیر ٹرانسپورٹرز کے ساتھ افغان سرزمین پہ کیا جارہا ہے.

انہوں نے حکومت پاکستان نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوے کہا کہ احمدزئی وزیر کے آٹھ گاڑی افغانیوں کے قبضے سے آزاد کرادیئے جائے چو پچھلے دو سالوں سے غازی اوورگونی، سلام سلیمان خیل، شیر محمد زدران، خیال گل خروٹی، نورمحمد خروٹی اور دریا خان خروٹی کی تحویل میں ہیں.

پاک افغان ٹرانسپورٹ یونین کے عہدیداروں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر جو پچھلے دو ھفتوں سے بندھ ہیں دونوں اطراف پر ٹرانسپورٹرز کے درمیان تنازعے کیوجہ سے ھر قسم آمدورفت کے لیے بندھ کیا ہیں.

انہوں نے اس بات پر زیر دیا کہ احمدزئی وزیر ھر قسم کے جرگہ کے لیے تیار ہیں لیکن بدقسمتی سے بارڈر کے اس پار افغانستان کے اولس وال اور ولی کی نگرانی میں ہمیں پاکستانی ھونے کے ناطے بربریت کا نشانہ بنایا جا رہے حکومت پاکستان افغان حکام سے اعلی سطع پر رابطہ کریں ہمیں انصاف دلائیں