عوامی نیشنل پارٹی کا پشاور تا وزیرستان امن مارچ کا اعلان

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے رواں سال مارچ میں پشاور سے وزیرستان تک امن مارچ کرنے کا اعلان کردیا جس میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں سمیت خیبر پختونخوا کے عوام، پارٹی قائدین اور کثیر تعداد میں کارکنان شرکت کریں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ فروری میں ضم اضلاع کے مسائل سے متعلق تمام سٹیک ہولڈرز کا مشترکہ جرگہ باچاخان مرکز پشاور میں منعقد کیا جائیگا۔

بنوں کے میراخیل کیمپ گراؤنڈ میں ہفتہ باچا خان کے دوسرے بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے تمام پشتونوں کا مشترکہ جرگہ باچا خان مرکز پشاور میں بلانے کیلئے پارٹی قائدین کو ذمہ داری سونپی ہے جس کے لئے مشترکہ طور پر لائحہ عمل اپنایا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ ضم اضلاع کے مسائل بارے بھی ایک لویہ جرگہ کا انعقاد کیا جائے گا جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ لویہ جرگہ میں تمام مسائل پر گفتگو ہوگی اور تمام قومی مسائل کے حل کیلئے قومی لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ اس وقت پشتون قوم کو چار بڑے مسائل کا سامنا ہے جس کے حل کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، پہلا مسئلہ بدامنی اور پشتونوں کا قتل عام ہے، اسی بدامنی کی وجہ سے ہزاروں افراد اب بھی کیمپوں میں زندگی بسر کررہے ہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں ان کی واپسی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں کیونکہ سالوں سے یہ پشتون بے سر و سامانی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور کردیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کرچکا ہے، مائیں اور بہنیں اپنے پیاروں کے انتظار میں بیٹھی ہیں لیکن انہیں پتہ نہیں کہ وہ مر گئے ہیں یا زندہ بھی ہیں، اگر کوئی کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے اور اگر کوئی بغیر کسی جرم کے لاپتہ کردیا گیا ہے تو اسے فوری طور پر رہا کردیا جائے۔

اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ پنجاب کی طرف سے آٹے کی سپلائی کی بندش قابل مذمت ہے لیکن خیبر پختونخوا کے عوام کو اپنے وسائل پر اختیار کا حق حاصل ہی نہیں، ہم ’’خپلہ خاورہ خپل اختیار‘‘ کے نعرے کو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے عملی جامہ پہنا چکے ہیں لیکن افسوس کہ ایسے لوگوں کو یہاں مسلط کیا گیا ہے جو مرکز سے اپنا حق بھی نہیں لے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو اس ملک کی بنیادیں ہل جائیں گی، ہم اپنے حقوق مانگتے ہیں اور اگر نہیں ملتے تو پھر چھیننا بھی جانتے ہیں۔

ایمل ولی خان نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا تسلیم کیا جائے وگرنہ اے این پی کسی بھی انتہائی قدم اٹھانے پر غور کرسکتی ہے جس میں تربیلا ڈیم سے بجلی کی سپلائی کی بندش کا آپشن بھی موجود ہے۔

ضم اضلاع میں جاری بدامنی بارے گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ان علاقوں میں گڈ طالبان کو ایک بار پھر منظم کیا جارہا ہے، ہم مزید پشتونوں کے قتل عام کی اجازت نہیں دیں گے اور اسی بدامنی کے خلاف امن مارچ میں ہر قسم کے مکتبہ فکر کے لوگوں کو اکٹھا کریں گے۔

کرک گیس رائلٹی بارے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بقایاجات ادا نہیں کیے گئے تو تربیلا ڈیم خیبر پختونخوا میں واقع ہے اور یہاں کے عوام کو اختیار ہے کہ جس کسی کو بجلی دینا چاہے دے سکتے ہیں، یہاں پیدا ہونے والی گیس مقامی افراد کو دستیاب نہیں لیکن پنجاب میں اسی گیس پر کارخانے چلائے جا رہے ہیں، اس امتیازی سلوک کے خلاف ہر محاذ پر پہلے کی طرح کھڑے رہیں گے اور پشتونوں کے ساتھ مزید ظلم برداشت نہیں کی جائے گا۔