پاراچنار، پہاڑ کے تنازعے پر ابراہیم زئی اور پاڑہ چمکنی قبائل کے مابین فائرنگ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پاراچنار میں اتوار کو علی الصبح پہاڑ کے معاملے پر پاڑہ چمکنی اور ابراہیم زئی قبائل کے مابین مسلح لڑائی شروع ہوئی، جس میں تا دم تحریر کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

مذکورہ قبائل کے مابین لڑائی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لیاقت علی اور ظفر علی کا کہنا تھا کہ پاڑے قبائل کا بالش خیل سے غصب کردہ اراضی پر صبر نہیں ہورہا، چنانچہ اب انہوں نے ہمارے علاقے میں تجاوزات پر کمر باندھ لی ہے۔

ایک عرصے سے وہ زیادتیاں کررہے ہیں۔ اس دوران کئی مرتبہ انہوں نے ہمارے جنگل اور پہاڑ کو آگ لگائی، یہی نہیں ہمارے علاقے میں مال مویشی چرانے کے علاوہ لکڑیاں کاٹ کر لے جاتے ہیں۔

اس مرتبہ دو تین دن سے مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد جب کل ہم نے انہیں لکڑیاں کاٹنے سے منع کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا اپنا علاقہ ہے، اپنے علاقے کے حوالے سے کسی سے منظوری نہیں لے سکتے۔

انکے اس متکبرانہ جواب کی باقاعدہ اطلاع ہم نے انتظامیہ کو دی، تاہم حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ چنانچہ آج اتوار کو جب ہمارے بندے جنگل چلے گئے، انہیں اسی طرح تجاوز کرتے پایا گیا۔

یوں ہمارے بدرقہ پارٹی نے انہیں نرغے میں لیکر انکے مال مویشیوں کو اپنے ساتھ لاگئے۔ جس پر انہوں نے مورچے سنبھال کر ہمارے لوگوں پر فائرنگ شروع کی۔ اور پھر گھنٹوں فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ پاڑہ چمکنی قبیلے نے اس دوران مارٹر اور راکٹ لانچر کا بھی آزادانہ استعمال کیا۔ دن کے آخری پہر میں حکومت نے مداخلت کرکے فائر بندی کرادی۔ اور فریقین کو مذاکرات کیلئے کل پیر کو صدہ بلایا۔ تاہم اہلیان ابراہیم زئی نے کہا کہ اپنی زمین پر مزید مذاکرات نہیں ہوسکتے۔

انکا صرف ایک ہی جواب ہے، وہ یہ کہ اپنی زمین میں مزید کسی کو تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ آئندہ کسی نے یہاں قدم رکھا، اسکے پاؤں توڑ دیں گے۔