روزگار سکیم کے تحت ضم اضلاع میں 50 فیصد سے زائد صحت کارڈز تقسیم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع اور ایف آرز میں انصاف روزگار سکیم کے تحت باقی ماندہ 1,715 درخواست گزاروں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کیلئے درکار 500 ملین روپے فوری طور پر فراہم کرنے کی منظوری جبکہ مارچ 2020کے آخر تک صوبہ بھر میں قرضوں کی تقسیم کا اجراء یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں انصاف روزگار سکیم اور صحت سہولت پروگرام سے متعلق دو علیحدہ علیحدہ اجلاسوں کی صدارت کر رہے تھے ۔

وزیراعلیٰ کو ضم شدہ اضلاع میں انصاف روزگار سکیم کے تحت قرضوں کی تقسیم پر پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ آخری تین ماہ میں قرضوں کی تقسیم میں پیش رفت کافی تیز ہوئی ہے, پہلے تین ماہ میں تین کروڑ روپے، آخری تین ماہ میں ساٹھ کروڑ روپے جبکہ اب تک 2775 افراد میں مجموعی طور پر 622.228 ملین روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ قرضوں کی فراہمی کے لئے ہر ضلع کے حساب سے اور حقیقت پسندانہ درجہ بندی کے تحت کوٹہ رکھا گیا ہے اور نا انصافی کے تمام تر امکان ختم کر دیئے گئے ہیں، مارچ تک پہلے ایک ارب روپے کی تقسیم مکمل کر لی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے گزشتہ تین ماہ کے دوران پروگرام کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو پروگرام کے لئے درکار پانچ سو ملین روپے جلد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ حکومت حسب ضرورت وسائل کی فراہمی بروقت ممکن بنائے گی۔

انہوں نے مارچ کے آخر تک صوبہ بھر میں قرضوں کی تقسیم کا عمل بھی شروع کرنے کی ہدایت کی۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ کو صحت سہولت پروگرام پر پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں وفاقی حکومت کے ذریعے صحت سہولت پروگرام پر عملدرآمد کیا جارہا ہے، پچاس فیصد سے زائد کارڈز تقسیم کئے جاچکے ہیں تاہم قومی شناختی کارڈ پر تمام قبائلی عوام کوعلاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

انہوں نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں صحت سہولت پروگرام کے تحت مکمل اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی اور واضح کیا کہ صحت انصاف کارڈ کے تحت سہولیات کے لئے کاؤنٹرز ہسپتالوں کی مین انٹری پر موجود ہونے چاہئیں تاکہ کسی ایک شخص کو بھی خدمات کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے صحت سہولت پروگرام کو صوبے کے سو فیصد عوام تک جلد توسیع دینے اور پورے پاکستان کے بڑے ہسپتالوں کو اس پروگرام میں ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں بلا تاخیر کاؤنٹرز فعال بنائے جائیں، اور عوام کی آگاہی کے لئے مہم مزید مؤثر بنائی جائے، مقامی سطح پر نگرانی کا مؤثر عمل بھی ناگزیر ہے، متعلقہ ہسپتالوں میں علاج کے لئے آنے والا ایک فرد بھی بغیر علاج معالجہ کے واپس نہیں جانا چاہیے، مسائل کی بروقت نشاندہی اور ازالے کا طریقہ کار موجود ہونا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے ضم شدہ اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات کے حوالے سے علیحدہ سے بریفنگ طلب کی۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صحت سہولت پروگرام کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے تمام تر صلاحیتیں صرف کی جائیں کیونکہ یہ صوبائی حکومت کا شعبہ صحت میں سب سے اہم منصوبہ ہے ۔