2019 کے اختتام پر قبائلی اضلاع میں دہشتگردانہ واقعات میں نمایاں کمی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

گزشتہ دہائی کے آغاز میں ایک وقت وہ بھی تھا جب خیبر پختونخوا میں شامل قبائلی علاقوں کو دنیا کی خطرناک ترین جگہیں قرار دیا گیا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف طویل جدوجہد کے ثمرات نظر آنے لگے ہیں۔

حال ہی میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قبائلی خطے میں دہشت گردانہ واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ فاٹا ریسرچ سینٹر کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں دہشت گردی میں 16 فیصد جبکہ اس کے نتیجے میں جاں بحق و زخمی افراد کی تعداد میں بھی 24 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوائے جنوبی وزیرستان کے دیگر چھ قبائلی اضلاع میں دہشت گرد واقعات اور ان میں ہلاکتوں میں نمایاں کمی نظر آتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2019 میں دہشت گردی کے 106 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ انسداد دہشت گردی کی 54 کارروائیاں کی گئیں، اس کے مقابلے میں 2018 میں دہشت گردی کے 127 واقعات رپورٹ ہوئے اور دہشت گردی کے خلاف 137 بار کارروائی کی گئی تھی۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد واقعات میں 16 فیصد کمی نظر آتی ہے۔ جبکہ دہشت گردی کے خلاف کی گئی کارروائی میں بھی 82 فیصد کمی ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دہشت گردی کے نتیجے میں 110 افراد جاں بحق جبکہ 171 زخمی ہوئے تھے۔

انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2019 کے دوران آپریشن ردالفساد میں انٹلی جنس اطلاعات پر کی جانے والی کارروائیاں زیادہ تر ردعمل کے طور پر کی گئیں، یعنی کسی دہشت گردی کے بعد فورسز کی جانب سے آہریشن یا کارروئی کی گئی تھی۔

2019 میں اس طرح کی 54 کارروائیاں کی گئیں جو انٹیلی جنس اطلاعات پر مبنی تھی جبکہ 2018 میں اس طرح کی 137 کارروائیاں کی گئی تھیں۔

یہ کارروائیاں تمام قبائلی اضلاع میں کی گئیں تاہم ان میں جنوبی اور شمالی وزیرستان نمایاں رہے۔ اطلاعات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائی کے نتیجے میں 16 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 10 زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بھی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے نشانہ پر رہیں اور 2018 کے مقابلے میں 2019 میں سیکورٹی فورسز کے زیادہ جوان ان کارروائیوں میں شہید یا زخمی ہوئے اور ان واقعات میں 12 فیصد اضافہ نظر آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان اب بھی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا اضلاع ہے اور 2019 کے دوران شمالی وزیرستان میں 45 دہشت گرد واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 2018 میں ان واقعات کی تعداد 58 تھی۔