وزیراعلیٰ محمود خان کا پہلی بار ڈی آئی خان کا دورہ

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ہماری حکومت پورے صوبے باالخصوص جنوبی اضلاع اور قبائلی علاقہ جات جیسے کم ترقی یافتہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، ماضی میں صرف اپنے آبائی علاقوں پر توجہ دی گئی، میں تمام صوبے کا وزیر اعلی ہوں تمام کے ساتھ انصاف کروں گا۔

وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈہ پور کی رہائش گاہ پر اپنے اولیں دورہ ڈیرہ اسماعیل خان کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈیرہ کے دیرینہ مطالبے لفٹ کینال کے منصوبے کو 120 ارب کی لاگت سے سی پیک کا حصہ بنا دیا ہے، 350 ارب کی مالیت سے پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک ایکسپریس وے تعمیر کر رہے ہیں۔

اس موقع پر وزیر اعلی کے مشیر برائے قبائلی علاقہ جات اجمل خان وزیر، ممبر نیشنل اسمبلی یعقوب شیخ، سابق تحصیل ناظم عمر امین بھی موجود تھے۔

وزیراعلی نے کہا کہ ڈیرہ کے علاقے پنیالہ کو جلد ہی تحصیل کا درجہ دے رہے ہیں جبکہ زرعی یونیورسٹی کی عمارت پر جلد کام شروع ہو گا اور گومل یونیورسٹی اور ہسپتالوں کو درپیش مسائل کے حل ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔

انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دو سپورٹس جمنیزیم، ٹریفک وارڈن کا نظام اور دو فلائی اوورز کی تعمیر کا اعلان کیا اور کہا کہ تحصیل پہاڑ پور میں گومل یونیورسٹی کا کیمپس بنایا جائے گا۔

وزیر اعلی نے کہا کہ واپڈا اور گیس سے متعلق مسائل سے ہم واقف ہیں، 9 ملین روپے سے کرک میں پراجیکٹ کا اعلان کر چکا ہوں جس سے سپلائی اور پریشر میں بہتری آئے گی، ہم نے ضلع ٹانک میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے 30 کروڑ کا ترقیاتی پیکج دیا ہے جبکہ جنڈولہ کی 42 کلومیٹر پر مشتمل سڑک کی تعمیر کی جائے گی، 83 ارب روپے کے قبائلی علاقہ جات کیلئے ہمارے بجٹ کی پہلے مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے پروآ تا چودھوان اور ڈیرہ تا کلاچی روڈ کی تعمیر کے علاوہ آرکیالوجی ورثہ کو محفوظ کرنے کیلئے بھی فنڈز دینے کا اعلان کیا۔

قبل ازیں ڈیرہ آمد کے فوراً بعد وزیراعلی نے ڈیرہ سپورٹس کمپلکس سے متصل 64 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے یوتھ کمپلکس کا افتتاح کیا جس میں 100 افراد کے رہنے کی گنجائش ہو گی۔

انہوں نے وفاقی حکومت کے تعاون سے مکمل ہونے والے پاکستان ایگری کلچر ریسرچ کونسل (PARC) کے تحقیقاتی سنٹر کا بھی افتتاح کیا۔

اس کے بعدوزیر اعلی نے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈہ پور کے ہمراہ دریائے سندھ کے کنارے سیاحتی مقام پر زیر تعمیر فوڈ سٹریٹ کا معائنہ بھی کیا۔

اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلی کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا اپ لفٹ اینڈ بیوٹیفیکیشن پروگرام کے تحت اس فوڈ سٹریٹ کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دریائے سندھ کے کنارے سیر گاہوں کی تعمیر، نخلستان/کشمیر پارک کا قیام اور سرکلر روڈ سمیت شہر کی دیگر شہراہوں کی تعمیر کروڑوں روپے کی لاگت سے مکمل کی جا چکی ہے۔

وزیر اعلی نے ان تینوں منصوبوں کی تختیوں کی نقاب کشائی کر کے افتتاح کیا۔

اس موقع پر ریسکیو 1122 کے چاق و چوبند دستے نے وزیر اعلی کو گارڈ آف آنر پیش کیا، ریسکیو 1122کے ایمرجنسی آفیسر نے وزیر اعلی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں 144.236 ملین روپے کی لاگت سے مین آفس اور دیگر ایمرجنسی سہو لیات کی فراہمی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جس سے ضلع کی عوام کو ہنگامی صورتحال میں فوری ابتدائی امداد فراہم کی جا سکے گی۔