"سپینی سپینی مہ وایہ” کی تقریب رونمائی، اک کتاب 40 ہزار میں فروخت

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

بونیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نوجوان نسل کے ہردلعزیز شاعر منیر بونیری کا ڈھائی سو روپے قیمت والا شعری مجموعہ "سپینی سپینی مہ وایہ” 40 ہزار روپے میں فروخت ہوا ہے اور نامور لکھاریوں نے اس عمل کو شاعر کی قدر افزائی قرار دیا ہے۔

منیر بونیری کا یہ مجموعہ حال ہی میں شائع ہوا ہے اور گزشتہ روز بونیر کے علاقے تور تنگی نانسیر کلے میں اس کتاب کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔

بونیر کی ضلعی ادبی تنظیم "ایلم پختو ادبی کاروان” کے زیراہتمام منعقدہ اس تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر ڈگر لطیف الرحمٰن سمیت خیبر پختونخوا کے نامور شعراء شریک ہوئے۔

تقریب میں شعراء اور لکھاریوں نے منیر بونیری کی کتاب پر اپنے مقالے پڑھ کر سنائے اور ان کی شاعری کی تعریف کے ساتھ ساتھ ان کے کلام میں خامیوں کی نشاندہی کی۔

اس موقع پر منیر بونیری کی کافی حاصلہ افزائی اور قدر افزائی بھی ہوئی، ٹانک سے آئے سید میر نامی ایک مہمان نے ایک کتاب کی قیمت چالیس ہزار، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 20 ہزار جبکہ بخت زادہ نامی ایک مقامی مشر نے دس ہزار روپے میں خریدی۔

ٹرائبل پریس کے ساتھ گفتگو میں اس حوالے سے سید میر کا کہنا تھا کہ وہ منیر بونیری کے پرستار ہیں اور اپنی اسی محبت کے اظہار اور اپنے پسندیدہ شاعر کی قدرافزائی کیلئے انہوں نے اس کتاب کی یہ قیمت ادا کی۔

اسسٹنٹ کمشنر لطیف الرحمٰن نے ٹرائبل پریس کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ بونیر میں ادبی تنظیموں کی سرگرمیوں کے سلسلے میں ہر قسم کا تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا، "یہ ایک بہت اچھا اقدام ہے کہ شاعر کی قدرافزائی کیلئے ان کی کتاب زیادہ نرخ میں خریدی جائے کیونکہ عموماً شعراء اور لکھاری مالی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں، ہمیں امید ہے یہ قدرافزائی پورے خیبر پختونخوا میں ان کی فکر اور کوششوں کو کافی فائدہ پہنچائے گی۔”

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منیر بونیری نے اس قدر افزائی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ اپنی زبان و ادب کو فروغ دینے کیلئے وہ اپنے تخیل کو مزید وسعت دے سکیں۔

موجودہ وقت میں منیر بونیری سوشل میڈیا کے مشہور شعراء کی صف میں کھڑے ہیں، اس غزل "سپینی سپینی مہ وایہ” نے انہیں بام عروج پر پہنچایا ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنے شعری مجموعے کا یہی نام رکھا ہے۔

تقریب رونمائی میں آزاد مشاعرے کا بھی اہتمام بھی کیا گیا تھا جس میں سوات سے تعلق رکھنے والے شاعر محمد گل منصور، شاہ نواز باقر، فطرت بونیری، اتل افغان، بحر مند بحر، عظمت تنہا، اعظم بونیری، موسی سالار، حکیم اللہ سیال و دیگر شعراء نے اپنا اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین سے داد و تحسین سمیٹی۔