2019، قبائلی اضلاع میں 160 پر تشدد, 106 دہشت گردی, 54 کاؤنٹر ٹیررازم کے واقعات

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

فاٹا ریسرچ سنٹر اسلام آباد کی سالانہ رپورٹ کے مطابق خیبرپختون خوا کے قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی کی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے جہاں سے 2019 کے دوران 160 پر تشدد واقعات, 106 دہشت گردی کے واقعات, 54 کاؤنٹر ٹیررازم کے واقعات رپورٹ کئے گئے ہیں جن کا موازنہ 2018 کے ساتھ کیا گیا ہے جس میں 127 دہشت گردی, 137 کاؤنٹر ٹیررازم کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے،  اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 16 فیصد دہشت گردی, 82 فیصد کاؤنٹر ٹیررازم کے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 106 دہشت گردی کے واقعات 2019 میں, 54 دہشت گردوں کے حملے سیکیورٹی فورسز پر ہوئے ہیں، 48 حملے عام سویلین شہریوں پر رپورٹ کئے گئے ہیں جبکہ چار دہشت گردوں کے حملے امن لشکروں کے ممبران پر ہوئے ہیں۔

دہشت گردی اور کاؤنٹر ٹیررازم کے واقعات میں 281 کیجوالٹیز ہوئی ہیں جس میں 110 افراد قبائلی اضلاع میں مارے گئے تھے اور 171 افراد زخمی ہوئے تھے جس میں تقریباً 24 فیصد کمی رپورٹ کی گئی ہے۔

مجموعی طور پر رپورٹنگ کے اس سال میں 161 واقعات میں سے 54 قتل اور 107 زخمی ہوئے تھے جو کہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے جس میں 2018 کے مقابلے میں 12 فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے، دوسرے نمبر پر 87 واقعات میں سے 35 قتل اور 52 زخمی ہوئے جو کہ سویلین تھے۔

اس طرح گزشتہ سال کے مقابلے میں 55 فیصد سویلین شہریوں کے واقعات میں کمی ہوئی تھی۔ 2019 میں 6 افراد امن تنظیم کے لوگ قتل جبکہ دو زخمی ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان گذشتہ سال بے چین رہا جس میں تقریباً 45 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے، اس سے پہلے سال 58 اس طرح کے واقعات رونما ہوئے تھے۔

جنوبی وزیر ستان دوسرے نمبر پر رہا جہاں 25 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے تھے جس میں 17 افراد قتل اور 26 زخمی ہوئے تھے، خیبر اور باجوڑ میں بالترتیب 12 اور 15 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے، مہمند سے چھ دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے اور صرف اس طرح کا ایک واقعہ اورکزئی میں رپورٹ ہوا تھا جبکہ کرم سے ایک واقعہ رپورٹ ہوا تھا  اگرچہ یہ قبائلی ضلع افغانستان کے ننگر ہار علاقے سے متصل ہونے کی وجہ سے متاثر ہونے کے قریب تھا۔

2019 میں تحریک طالبان کے حکیم اللہ محسود اور مفتی نور ولی بے چینی پیدا کرنے والے اہم گروہ تھے۔

فاٹا ریسرچ سنٹر کے تجزیہ کار عرفان الدین کے مطابق فوجی آپریشنوں کی وجہ سے دہشت گرد گروہوں کی تنظیمی سرگرمیاں کافی کمزور ہو چکی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب دہشت گرد خود کش حملوں کے بجائے بارڈر کے اس پار سے حملوں پر انحصار کرتے ہیں اور اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور فوج کی موثر منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے دہشت گرد تنظیموں کا نیٹ ورک کافی کمزور ہو چکا ہے۔