خیبر پختونخوا میں طلبہ کی تعلیم پرسالانہ 102روپے خرچ ہوتے ہیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا حکومت پرائمری اور سکینڈری سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ پر سالانہ 102 ارب 2 کروڑ33لاکھ97ہزار روپے سے زائد کا فنڈز خرچ کر رہی ہے۔

اوسطاً سالانہ فی طالبعلم پر23ہزار 290روپے خرچ کئے جارہے ہیںتاہم اس کے باوجودمیٹرک سالانہ نتائج میں سرکاری تعلیمی اداروںکے نتائج مایوس کن سامنے آتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ بھر میں پرائمری اور سیکنڈری سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد28ہزار ہے۔ جن میں مجموعی طور پر45لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہے ۔

پرائمری سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد 30 لاکھ سے زائد جبکہ مڈل اور ہائیر سکینڈری سکولوں میں15لاکھ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ایک سال کے دوران سرکاری تعلیمی اداروں میں نئے داخل ہونے والے طلبہ کی تعداد43لاکھ80ہزار616رپورٹ کی گئی ہے

ان طلبہ کے سالانہ اخراجات 102 ارب2کروڑ33لاکھ 97ہزار701 روپے ہے ایک سال کے دوران پرائمری سکولوں میں نئے داخل ہونے والے طلبہ کی تعداد31لاکھ16ہزار319جبکہ سیکنڈری سکولوں میں داخل ہونے والے طلبہ کی تعداد 12 لاکھ64ہزار297ہے پرائمری سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ پر سالانہ 48ارب90کروڑ77لاکھ22ہزار روپے جبکہ سیکنڈری سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ پر سالانہ 53ارب11 کروڑ56لاکھ75ہزار501روپے خرچ ہوتے ہیں

پرائمری سکول میں فی طالب علم پر سالانہ15 ہزار691روپے جبکہ سیکنڈری سکول میں فی طالب علم پر سالانہ 42 ہزار 12 روپے خرچ کئے جاتے ہیں ۔