پاراچنار، سرکاری ہسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی، بچوں کی اموات میں اضافہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پاراچنار سمیت ضلع کرم بھر میں برفباری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا، جس کے باعث سردی کی شدت مزید بڑھ گئی ہے۔ شدید سردی کے باعث بچوں کے امراض میں اضافہ ہوگیا ہے. ہسپتال میں سہولیات کے فقدان کی وجہ سے بچوں کے اموات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سرکاری ہسپتال کی مخصوص ایکسپریس لائن پر بھی بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کے باعث ہسپتال کی نرسری اور آئی سی یو میں انکوبیٹر نہ چلنے کی وجہ سے نومولود بچوں کی زندگیوں کو خطرہ درپیش ہوگیا ہے، جس سے آئے روز بچوں کی اموات واقع ہوجاتی ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پاراچنار کے چلڈرن وارڈ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چلڈرن سپیشلسٹ ڈاکٹر ذوالفقار علی نے بتایا کہ علاقے میں سردی کی شدت بڑھنے سے بچوں کے سیزنل امراض میں اضافہ ہوگیا ہے اور بچے سینے، نزلہ زکام، وائرل نمونیا، پیرنٹل ڈائیریا، خسرہ خصوصاً نومولود بچے ہائپوتھرمیا کا شکار ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس موسم میں بچوں کو گرم کپڑے پہنانا چاہیئے اور کمروں کو گرم رکھنا چاہیئے، بچوں کو نہلانے سے گریز کرنا چاہئے یا مناسب وقت میں گرم کمرے میں بچوں کو نہلانا چاہیئے اور انہیں غیر صحت بخش غذا سے دور رکھنا چاہیئے۔

دوسری جانب ہسپتال میں داخل مولود بچوں کے والدین نے بتایا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شدید سردی میں رات اور دن گزار رہے ہیں اور وارڈز کو گرم رکھنے کیلئے بھی کوئی خاص بندوبست نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان کے بچوں کی زندگی کو خطرہ ہے۔

قبائلی رہنماء حاجی جمیل حسین اور سماجی رہنما تنویر حسین نے میڈیا کو بتایا کہ ہسپتال میں سہولیات اور عملے کی کمی کی وجہ سے ضلع کرم کے عوام شدید مشکلات سے دو چار ہیں اور معمولی بیماریوں کیلئے بھی لوگ پشاور کا رخ کرتے ہیں، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پاراچنار کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے بار بار حکومتی عہدیدار اعلانات کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے وہ محض اعلانات تک ہی محدود ہیں۔

انہوں نے اعلٰی حکام سے ہسپتال کی اپ گریڈیشن اور عملے کی کمی پوری کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا تاکہ پسماندہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر ہی صحت کی سہولیات میسر آسکیں۔