ضلع بونیر جہاں پر جنگلات کی بحالی کے آثار نظر آنے لگے ہیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

بونیر میں بنچ سر کا پہاڑ یہاں پائے جانے والے درخت “بنج”کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ سردیوں میں یہ علاقہ مہینوں برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ جبکہ گرمیوں میں یہاں کے باسیوں کو پنکھے تک لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔  ملک بھر میں درختوں کی کٹائی اور اس سے ماحول پر مرتب ہونے والے برے اثرات ایک عرصے سے زبان زد عام رہے ہیں لیکن اب خیبرپختونخوا میں بنج سر جیسے ایسے کئی علاقے ہیں جہاں کے پہاڑ دیکھ کر اپ کو خوشگوار حیرت ہوتی ہیں۔ اور وہ اس لئے کہ اب یہ علاقے تیزی سے گنے جنگلات کے مناظر پیش کرنے لگے ہیں۔

ہاشم کاکا گزشتہ پانچ دہائیوں سے بنج سر میں مقیم ہے جب وہ اس علاقے میں آباد ہوئے تو یہاں کے جنگل انتہائی گنے تھے۔ ہاشم کاکا  کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ان جنگلات کے باعث دن کے وقت بھی انہیں گھومنے پھرنے سے خوف آتا تھا لیکن پر 70 کی دہائی سے اس علاقے میں آبادی آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔ گھر آباد ہوئے تو لوگوں کو کیتی باڑی کے لئے زمین کی ضرورت پڑی اور یوں اس کا حل بھی درخت کاٹ کر کیا گیا۔

ہاشم کاکا کا کہنا ہے کہ شروع میں درختوں کی سمگلنگ نہ ہونے کے برابر تھی کیونکہ ان علاقوں میں رسائی کے لئے نہ تو کوئی روڈ تھا اور نہ ہی قریبی اضلاع کے سمگلرز کی نظر یہاں پر پڑی تھی۔ ہاشم کاکا کہتے ہیں کہ اس لئے لوگ درخت کاٹ کر اسے کھڈا کھود کر اوپر مٹی ڈال دیتے تھے۔ اور پر وقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے اور یہاں سے لکڑیوں کی سمگلنگ بھی شروع ہوگئی اور یہ سلسلہ دہائیوں تک جاری رہا جس سے جنگلات کا رقبہ بری طرح متاثر ہوا۔

ہاشم کاکا کہتے ہیں کہ بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے آغاز کے بعد سے اس علاقے میں جنگلات کی حالات کافی حد تک بہتر ہوچکی ہیں۔ دیار کا درخت جو نہایت قیمتی درخت ہے، اب لاکھوں کی تعداد میں دوبارہ قدرتی طور پر اُگ چکے ہیں۔

پیر بابا کا رہائشی وسیم خان گرمیوں کے موسم میں اپنے دوستوں کے ساتھ کچھ دنوں کے لئے اس علاقے کا رخ کر لیتا ہے۔ وسیم کے مطابق کہ کچھ عرصہ قبل یہاں پر سڑک کنارے درخت کاٹنے کے مناظر دیکھنا ایک معمول کی بات تھی اور سمگللرز یہاں سے روزانہ کی بنیاد پر منوں کے حساب سے لکڑیاں کاٹ کر لے جایا کرتے تھے۔ یہ لکڑی ذیادہ تر دیگر اضلاع میں فرنیچر بنانے کے لئے استعمال کی جاتی تھی لیکن اب موجودہ حکومت میں حالات یکسر بدل چکے ہیں اور اب ایسا کرنے کے حوالے سے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔

وسیم کا کہنا تھا کہ بونیر کے ذیادہ تر جنگلات اب دوبارہ بحال ہونا شروع ہوچکے ہیں۔ جیسے دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات ایسے ہی برقرار رکھے گئے تو آنے والے دس پندرہ سالوں میں یہاں دوبارہ گنے جنگل بحال ہوجائنگے۔

خیبرپختونخوا میں جنگلات کے کم ہوتے ہوئے رقبے کو بچانے کے لئے صوبائی حکومت نے 2014 میں بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کا آغاز کیا جس کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں ایک ارب پودے اگانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ جس کو شجرکاری اور جنگلات محفوظ بنا کر حاصل کیا گیا۔ منصوبے کے تحت صوبے کے مختلف علاقوں میں ہیلی کاپٹر سے بھی بیج گرائے گئے۔ اس منصوبے کو عالمی سطح پر پزائرائی حاصل ہوئی۔

ڈپٹی ڈائریکٹر بلین ٹری سونامی داؤد آفریدی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے تحت ایک ارب 20 کروڑ سے ذیادہ پودے اگائے گئے۔ جس میں 40 فیصد لگائے گئے جبکہ 60 فیصد پودے جنگلات کی حفاظت اور خود رو پودوں کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ سے خیبرپختونخوا میں جنگلات کا رقبہ 20 فیصد سے بڑھ کر 26 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ جبکہ جنگلات بھی گنے ہوتے جارہے ہیں۔

داؤد آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے دس ارب پودے اگانے کے پراجیکٹ میں خیبرپختونخوا کو 27 ارب روپے ملے گے جس میں 9 ارب روپے فاٹا میں جنگلات کا رقبہ بڑھانے پر لگائے جائینگے۔

خیبرپختونخوا کا ضلع بونیر جہاں پر جنگلات کی بحالی کے آثار نظر آنے لگے ہیں

ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر احمد جلیل کا کہنا ہے کہ بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے تحت ضلع بونیر میں تقریباً 16ہزار ہیکٹر اراضی پر شجر کاری کی گئی ہے۔ جبکہ ڈیڑھ کروڑ کے قریب پودے کمیونٹی میں مفت تقسیم کئے گئے۔ احمد جلیل کا کہنا تھا کہ ضلع بونیر کے جنگلات میں تین سو کے قریب مقامات کی احاطہ بندی کی گئی ہے۔ جس کی حفاظت کے لئے نگہبان بھی مقرر کئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع میں لکڑیوں کی سمگلنگ کے حوالے سے اب کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ احمد جلیل کا کہنا ہے کہ پورے صوبے میں وفاق کی جانب سے شروع ہونے والے منصوبہ کے لئے بھی ابھی سے تیاریاں شروع کردی گئی ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر کلائمیٹ چینج سنٹر افسر خان کا کہنا ہے کہ درخت اگانے کے ماحول پر نہایت مثبت اثرات ہوتے ہیں۔ اور یہ ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگلات کی بحالی کے حوالے سے حکومتی اقدامات کو سراہنا چاہئیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ پودے درخت بننے تک کافی وقت لیتے ہیں، امید ہے کہ آنے والے وقتوں میں درختوں اگانے کے مثبت اثرات ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے۔