رشکئی سپیشل اکنامک زون کی کنسیشن اور ڈویلپمنٹ ایگریمنٹس کو حتمی شکل دیدی گئی

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت خیبر پختونخوا کے اہم منصوبے رشکئی سپیشل اکنامک زون کی کنسیشن اور ڈویلپمنٹ ایگریمنٹس کو حتمی شکل دے دی گئی، منصوبے پر بہت جلد ترقیاتی کام کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا جو صوبے میں تیز رفتار صنعت کاری کے فروغ کے لئے سنگ میل ثابت ہو گا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے واضح کیاہے کہ صوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول دینے کے لئے پر عزم ہے اور اس مقصد کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن میں صوبے میں مواصلاتی نیٹ ورک کی بہتری اور ویلنگ ماڈل کے ذریعے صنعتی صارفین کو سستی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی جیسے اقدامات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں رشکئی سپیشل اکنامک زون کے لئے نظر ثانی شدہ کنسیشن ایگریمنٹ کی منظوری کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیٹی کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے محاصل میں اضافہ کے لئے صوبے کی سٹریٹیجک لوکیشن سے بھر پور استفادہ کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے، صوبے کے قدرتی وسائل کو بروئے کار لایا جارہا ہے اور اس کیساتھ ساتھ کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لئے بھی کوشاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رشکئی سپیشل اکنامک زون صوبے میں سرمایہ کاری اور صنعت کاری کے تیز تر فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا، یہ منصوبہ خیبر پختونخوا اور چین دونوں کی حکومتوں کی توجہ کا مرکز ہے، اس منصوبے کی تیز تر تکمیل ہماری ترجیح ہے ۔

محمود خان نے کہا کہ رشکئی سپیشل اکنامک زون اس وجہ سے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ صوبے کے وسط میں ایم ون پر واقع ہے، اس منصوبے کی تعمیر و ترقی سے صنعتوں کے فروغ کیساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

واضح رہے کہ رشکئی سپیشل اکنامک زون ایک ہزار ایکڑ وسیع قطعہ اراضی پر قائم کیا جائے گا، منصوبے کے لئے بجلی کی فراہمی تین مرحلوں میں ممکن بنائی جائے گی۔

DDWP نے بجلی کی فراہمی کے لئے پی سی ون منظور کر لیا ہے جس کی لاگت 1825.79 ملین روپے ہے جس کے تحت تین مرحلوں میں وفاقی حکومت 210 میگاواٹ بجلی کی فراہمی یقینی بنائی گی، دس میگاواٹ بجلی 29 فروری تک فراہم کر دی جائے گی جبکہ 70 میگاواٹ بجلی دسمبر 2020 تک اور باقی ماندہ 80 میگاواٹ بجلی دسمبر 2021 تک فراہم کی جائے گی۔

رشکئی سپیشل اکنامک زون میں گیس کی فراہمی کے لئے بھی DDWP کے گزشتہ ماہ اجلاس میں پی سی ون کی منظوری دی گئی تھی جس کی لاگت 1203ملین روپے ہے۔

علاوہ ازیں سپیشل اکنامک زون تک رسائی کے لئے ولی انٹرچینج سے اکنامک زون کے زیرو پوائنٹ تک سڑکوں کی تعمیر کے پہلے مرحلے پر کام کا اجراء کر دیا گیا ہے۔

کنسیشن ایگریمنٹ کے مطابق رشکئی سپیشل اکنامک زون تین مختلف مرحلوں میں قائم کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں 247 ایکٹر رقبے کو ترقی دی جائے گی، دوسرے مرحلے میں 355 ایکٹر جبکہ تیسرے مرحلے میں 399 ایکڑ رقبے کی تعمیر و ترقی یقینی بنائی جائے گی اور منصوبے کی تعمیر کے دوران مزدوروں سمیت 80 فیصد مقامی یعنی پاکستانی ورک فورس تعینات کی جائے گی۔