سکھ نوجوان کے قتل کیخلاف شانگلہ میں احتجاج

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں مقامی لوگوں نے سکھ نوجوان کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ اقلیتی برادری میں عدم تحفظ کا تاثر ختم ہوجائے۔

شانگلہ کے علاقہ چکیسر سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ نوجوان پروندر سنگھ کو گزشتہ روز پشاور میں نامعلوم افراد نے سر میں گولی مارکر قتل کیا تھا۔ شانگلہ پولیس کے اہلکار شیر عالم نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ مقتول کی لاش اتوار کی شام گاؤں پہنچا دی گی تھی۔

پیر کی صبح 11 بجے مقتول کی آخری رسومات ادا کرنے کے بعد علاقہ مکینوں نے چکیسر کے بازار میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور پروندر سنگھ کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے کا اعلان اور انتظام مقامی مسلمانوں نے کیا تھا۔

مظاہرے میں شریک مقامی اسکول ٹیچر حق نواز نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ مقامی مسلمانوں نے پہلے مقتول کے گھر جاکر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور بعد ازاں برف باری کے باوجود چکیسر بازار میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقامی عمائدین نے کہا کہ ایک مہینہ قبل چکیسر سے تعلق رکھنے والے محکمہ تعلیم کے افسر نواب علی کو کوہستان میں قتل کیا گیا تھا اور آج چکیسر کے عوام کو پروندر سنگھ کی لاش حوالے کی گئی۔ عمائدین نے کہا کہ پولیس اور صوبائی حکومت چکیسر کے عوام کے صبر کا امتحان لے رہی۔ اگر ملزمان کو فوری گرفتار نہیں کیا گیا تو پشاور میں صوبائی اسمبلی کے باہر احتجاج کریں گے۔

پروندر سنگھ کے ایک بھائی ہرمیت سنگھ صحافی ہیں۔ اتوار کو لاش وصول کرنے کیلئے وہ بھی پشاور آئے تھے جہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرمیت سنگھ نے کہا کہ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ میرا بھائی پروندر سنگھ ملائیشیا میں کپڑے کاروبار کرتا تھا اور چند روز قبل شادی کیلئے پاکستان آیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مقتول پروندر سنگھ کی فروری میں شادی ہونے والی تھی اور وہ شادی کی شاپنگ کے لیے پشاور گئے تھے۔

پشاور پولیس کے مطابق پروندر سنگھ کی لاش ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ملی تھی اور اسی وقت مقتول کے موبائل فون سے اس کے بھائیوں کو کال کر کے اطلاع دے دی گئی۔ اتوار کو ان کے لواحقین پوسٹ مارٹم کے بعد لاش کو شانگلہ لے گئے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پروندر سنگھ کی ہلاکت سر پر گولی لگنے سے ہوئی اور مقتول کے جسم پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات نہیں پائے گئے۔ پولیس کے مطابق نامعلوم ملزمان نے پروندر سنگھ کو کسی اور جگہ قتل کرکے لاش جی ٹی روڈ پر پھینک دی تھی۔ پولیس تاحال ملزمان کو گرفتار نہ کرسکی ہے۔

واضح رہے کہ ضلع سوات، بونیر اور شانگلہ میں سکھوں اور ہندوؤں کی کافی تعداد آباد ہے اور ماضی میں کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ یہ تینوں اضلاع طالبانائزیشن کے دوران بھی سب سے زیادہ متاثر ہوئے مگر اس وقت بھی مقامی سکھوں اور ہندوؤں کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا۔

چکیسر کے ایک مقامی نوجوان فیاض احمد نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ یہاں قیام پاکستان سے قبل کے چند سکھ خاندان آباد ہیں اور مقامی مسلمانوں کے ساتھ ان کی مثالی ہم آہنگی ہے۔ مسلمان اور سکھ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اور آپس میں گہری دوستیاں بھی ہیں۔