معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت کا دورہ باڑہ، کرشنگ پلانٹس پھر بھی بند

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالکریم خان نے قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کا دورہ کیا تاہم باڑہ کی عوام کا کرشنگ پلانٹس کو کھولنے کا دیرینہ مطالبہ پورا نہ ہو سکا۔

ٹی این این ذرائع کے مطابق معاون خصوصی نے اہل علاقہ کو یقین دلایا کہ وہ ان کے ایک نمائندہ وفد کی وزیراعلیٰ سے ملاقات کروائیں گے اور اس مسئلے کوحل کرنے کی پوری پوری کوشش کریں گے۔

خیال رہے کہ 2009 میں بدامنی کیخلاف آپریشن کے وقت سے باڑہ کے تقریباً ستر کرشنگ پلانٹس بند ہیں جس کی وجہ سے اس کاروبار سے بالواسطہ یا بلاواسطہ وابستہ 3 تا ساڑھے تین ہزار افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

اسی طرح اہل علاقہ کی جانب سے علاقے میں کامرس کالج کے قیام کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے تاہم معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت کا کہنا تھا کہ باڑہ کو کامرس کالج کی نہیں ٹیکنیکل کالج کی ضرورت ہے اور ان کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ اس سلسلے میں موثر کردار ادا کریں۔

قبل ازیں معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالکریم خان نے ممبر صوبائی اسمبلی حلقہ پی کے 107 شفیق آفریدی کے ساتھ ملکر باڑہ میں بند کرش پلانٹ انڈسٹری کا دورہ کیا۔

اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی حاجی شفیق آفریدی نے ان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بیسٸے بابا پہاڑ پر پچھلے 12 سالوں سے کرش پلانٹ انڈسٹری بند ہے اور کرش مشینوں کی وجہ سے ہمارے علاقے کے تقریباً 2 ہزار سے زاٸد افراد بے روزگار ہو چکے ہیں اور ساتھ ہی علاقے میں صنعت کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کرش مشینوں کو دوبارہ شروع کرنے سے علاقے میں روزگار ملے گا اور لوگوں کا حکومت پر اعتماد بڑھ جاٸے گا۔

اس موقع پر وزیر اعلٰی کے معاون خصوصی براٸے صنعت و تجارت عبدالکریم خان نے کہا کہ صرف ملازمت دینے سے نہیں بلکہ صنعت و تجارت کو فروع دینے سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بہت جلد وزیراعلی خیبرپختوانحوا کے ساتھ متعلقہ لوگوں اور علاقاٸی مشران کا میٹنگ کرانا ہے تاکہ بیسٸ بابا کے بند کرش مشین جلد از جلد دوبارہ شوع کٸے جا سکیں اور علاقے کے ہزاروں لوگوں کو روزگار کا موقع مل سکے۔

کرش پلانٹ کے دورے کے موقع پر ان کے ہمراہ ملک وارث خان، شلوبر قومی کونسل چیئرمین عبدالعنی آفریدی، مجیب الرحمن سماجی کارکن لعل نبی آفریدی سمیت دیگر مشران بھی موجود تھے۔