وزیرستان میں صحت کارڈ اجراء سمیت ریسکیو 1122 کا افتتاح کر دیا

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

میرانشاہ میں وزیرستان یونین آف جرنلسٹس و میرانشاہ پریس کلب کے نو منتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈپٹی کمشنر،  قبائلی عمائدین، سیاسی رہنماؤں کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کے حکام اور مقامی صحافیوں نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب میں ڈپٹی کمشنر عبدالناصر کا کہنا تھا کہ وزیرستان میں صحت کارڈ کا اجراء کر دیا گیا، 3 تحصیلوں کی میونسپل ایڈمنسٹریشن کے لیے گاڑیاں پہنچ چکی ہیں، وزیرستان میں ریسکیو 1122 کا افتتاح کر دیا گیا ہے، پسماندہ دتہ خیل تحصیل میں دو ارب کا منصوبہ شروع کیا، ٹل میرعلی 54 کلومیٹر روڈ کی سروے جاری ہے جسے جلد مکمل کیا جائے گا، اسی طرح ٹل گاؤں تا بویہ و عیدک تا حکیم خیل گاؤں سمیت سینکڑوں کلومیٹر طویل روڈ پر بھی کام کا آغاز کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں میڈیکل کالج و یونیورسٹی کی منظوری ہوچکی ہے، لینڈ ریکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت زمینوں کی نشاندہی کی ہے، نئے مجوزہ ایکٹ کے تحت اس پر کام کیا جائےگا۔

عبدالناصر نے بتایا کہ سی ایل سی پی کے تحت 16000 منہدم گھروں کے لئیے تین ارب نوے کروڑ روپے تقسیم کیےگئے، سی ایل سی پی میں تحصیلداروں کے خلاف شکایات پر کارروائی کی گئی، انکوائری میں افسران کو سزا دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چند فیک اکاؤنٹس سے غلط پوسٹ شئیر ہوتی ہیں مگر صحافیوں نے علاقے کے مفاد میں ہمیشہ مثبت رپورٹنگ کی ہے اور وہ پرامید ہیں کہ ماضی کی طرح نومنتخب کابینہ و دیگر صحافی علاقے کی خدمت جاری رکھیں گے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مرجر کے بعد انتظامیہ کو قانونی مسائل کا سامنا تھا، مختلف اقوام کے درمیان تصادم کی روک تھام میں ضلعی انتظامیہ نے اھم کردار ادا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرانشاہ کے لئیے پندرہ لاکھ فی مرلہ لینڈ لاس کی منظوری ہوئی ہے،میرانشاہ تاجر برادری کے لئیے 7 ارب 76 کروڑ روپے پر اتفاق ہوا جس کی جلد کابینہ سے منظوری ملے گی، پیٹرول پمپس مالکان کے لیے 33 کروڑ، میرعلی کے 2900 دکانداروں کے لئیے 2 ارب 92 کروڑ کا معاوضہ دیا جا رہا ہے جبکہ وزیرستان میڈیا کالونی کے لئیے کوشش کی جائیں گی۔