لنڈیکوتل میں صحت کارڈز پر علاج معالجے کا آغاز، ڈاکٹرز فلیٹس کا سنگ بنیاد

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

لنڈی کوتل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں انصاف صحت کارڈز پر آپریشنوں اور علاج معالجے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔

ایم پی اے الحاج شفیق شیر آفریدی, اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل محمد عمران اور ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر نیک داد آفریدی نے افتتاح کیا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے شفیق شیر آفریدی نے کہا کہ لنڈی کوتل ہسپتال کو کیٹگری اے کا درجہ دینے کے لئے ان کی کوششیں جاری ہیں اور لنڈی کوتل میں میڈیکل کالج بنا کر دم لیں گے، اب ہر غریب کا علاج مقامی ہسپتال انصاف صحت کارڈ پر ہوگا جس کا آغاز پورے قبائلی اضلاع میں سب سے پہلے لنڈی کوتل ہسپتال میں ہو چکا ہے۔

ایم پی اے شفیق شیر آفریدی نے ایم ایس کے مطالبہ پر یقین دلایا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر ہیما ٹالوجی اور کیمیکل اینالائزرز مشینیں لاکر ہسپتال کو دیں گے جس پر یہاں کی لیبارٹری میں تمام تر ٹیسٹ ہو سکیں گے، لنڈی کوتل ہسپتال میں ڈائلاسیز کے لئے بھی ڈاکٹر اور ٹیکنیکل سٹاف لانے کا جلد بندوبست کیا جائے گا، ہسپتال کی بجلی اور پانی کے مسائل بھی جلد حل کر دیے جائیں گے۔

اس موقع پر لنڈی کوتل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر نیک داد آفریدی نے کہا کہ لنڈی کوتل ہسپتال کو کیٹیگری اے کا درجہ ملنے کے بعد ہسپتال کے بجٹ میں اضافہ ہوگا جبکہ مقامی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔

ڈاکٹر نیک داد آفریدی نے کہا کہ انہوں نے 2007 سے پڑے واٹر کولرز کو ہر ڈیپارٹمنٹ کے سامنے لگا کر صاف پانی کی فراہمی کا انتظام کیا اور سارے ڈاکٹرز اور مشورے پر انصاف صحت کارڈز پر مختلف بیماریوں کے آپریشنز شروع کرکے علاقے کے لوگوں کا مسئلہ بڑی حد تک حل کر دیا، محدود بجٹ میں اتنے بڑے مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پانی کی فراہمی اور بجلی کی سپلائی بڑے مسائل ہیں جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل محمد عمران خان نے کہا کہ انتظامیہ اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کرے گی تاکہ ہسپتال کے اندر مسائل جلد حل ہوں۔

انصاف صحت کارڈز کے انچارج امانت خان نے کہا کہ چند بیماریوں کے علاوہ تمام بیماریوں کا علاج صحت کارڈ پر ممکن ہے اور جن ہسپتالوں میں صحت کارڈز پر علاج ہو سکتا ہے ان کے نام بتا دیے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہر شہری اصل شناختی کارڈز پر اپنا علاج مفت کر سکتا ہے تاہم ابھی تک لنڈی کوتل ہسپتال میں 34 ہزار کارڈز پڑے ہیں جن کے مالک ابھی تک نہیں آئے ہیں۔