وانا، سرکاری سکولوں کے اساتذہ کا گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لینے کا انکشاف

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

جنوبی وزیرستان گنگی خیل قبیلے تعلق رکھنے والے مشران نے کہاہے کہ گورنمنٹ پرائمری سکول زم چینہ عرصہ دراز سے غیر فعال ہے جبکہ علاقے میں بروقت علاج و معالجے کیلئے کسی قسم کی طبی سہولتیں میسر نہیں ۔

اپنے مسائل کے حل کے حوالے سے وانا پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک خان مالک،ملک رستم خان اور ایلس خان گنگی خیل وزیر نے بتایا کہ تحصیل برمل کا علاقہ زم چینہ کی کل آبادی 5000ہزارنفوس پر مشتمل ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اعلیٰ حکام کی نظروں سے اوجھل ہے۔

عمائدین کا کہنا تھا کہ علاقے میں فی میل ایجوکیشن تو دور کی بات لڑکوں کیلئے تعمیر کیا گیا سکول بھی غیر فعال ہے جبکہ اساتذہ گھروں میں بیٹھ کر اپنی تنخواہیں وصول کررہے ہیں،ضلعی انتظامیہ نے بھی اس پر چپ سادھ رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی یا مرض درپیش ہونے کی صورت میں کوئی مقامی صحت مر کز نہیں جہاں انکا فرسٹ ایڈ علاج کرسکے لہٰذ احکومت ہنگامی بنیادوں پر علاقہ ہذا میں ہسپتال کی تعمیر یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے تشکیل شدہ کمیٹیوں میں جنگلات سے وابستہ اور واقف لوگوں کو مکمل طور پر نظر اندا ز کیا گیا ہے جو ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں لہٰذا اعلیٰ حکام نوٹس لیں

دوسری جانب مشران نے اعلیٰ حکام سے زم چینہ میں موبائیل ٹاور لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام نے ہمارے جائز مسائل بروقت حل نہ کئے تو ہم مجبوراََ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔