خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل اپریل 2020ء تک مکمل کرنیکی ہدایت

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں اساتذہ کی فراہمی کے منصوبے کے تحت 600 سے زائد سکولوں میں 3500 سے زائد خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل اپریل2020ء تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ضم شدہ اضلاع کے شعبہ تعلیم میں ترقیاتی اقدامات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے ہدایت کی کہ بھرتیوں کیلئے امتحانات کا انعقاد پشاور کی بجائے متعلقہ قبائلی اضلاع میں ہی یقینی بنایا جائے تاکہ اُمیدواروں کو سہولت دی جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے بعض ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمد میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع کے شعبہ تعلیم میں تمام منصوبوں کا مکمل ایکشن پلان فراہم کیا جائے اور ٹائم لائن پر سختی سے عمل کیا جائے، سکولوں میں اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے آزاد مانیٹرنگ یونٹ کے ذریعے باقاعدگی سے ہنگامی دورے کیے جائیں۔

اُنہوں نے جعلی ڈاکومنٹس رکھنے والے اور ڈیوٹی سے مسلسل غیر حاضر رہنے والے اساتذہ کو برطرف کرنے جبکہ ضم شدہ اضلاع میں ماہر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کی تعیناتی اور گزشتہ دو سالوں سے ایک ہی پوسٹ پر خدمات انجام دینے والے کلریکل سٹاف کو تبدیل کرنے کیلئے اقدامات کی بھی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ نے تعلیمی اداروں میں ناپید سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی اور ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع کی تمام آسامیوں پر مقامی افراد کو ہی بھرتی کیا جائے اور ضم شدہ اضلاع میں سکولوں کی اپ گریڈیشن سمیت اساتذہ کی بھرتیوں کیلئے متعلقہ قواعد و ضوابط کو آسان کیا جائے۔

اُنہوں نے ضم شدہ اضلاع سے نو منتخب عوامی نمائندوں اور محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ وہ باہمی مشاورت سے سکولوں کی اپ گریڈیشن اور نئے سکولوں کے قیام کے حوالے سے ضرورت کی بنیاد پر کیسز کی نشاندہی کریں۔

اجلاس میں شریک ضم شدہ اضلاع کے نو منتخب عوامی نمائندوں نے شعبہ تعلیم میں ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے گراں قدر تجاویز پیش کیں اور اُنہوں نے بہتر حکمرانی کیلئے صوبائی حکومت کی شراکت داری پر مبنی سوچ اور کاوش پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ضم شدہ اضلا ع کی ترقیاتی سکیمیں رواں مالی سال کے دوران ہی صوبائی حکومت کے حوالے کی گئی ہیں جن پر خاطر خواہ پیشرفت ہو چکی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 139 سکیمیں رکھی گئی ہیں جن کے لئے 477.56 ملین روپے جاری کئے گئے اور 154.63 ملین روپے خرچ کئے جا چکے ہیں، تیزر فتار عمل درآمد پلان (اے آئی پی) کے تحت 18 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 7686 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں، ضم شدہ اضلا ع کے سکولوں میں بنیادی انفراسٹرکچر، اساتذہ اور دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے تیز رفتار عمل درآمد پروگرام کے تحت مختلف سکیموں پر عمل درآمد کیا جارہا ہے جن میں کھیلوں کی سہولیات، سٹیشنری، بستوں اور درسی کتب کی مفت فراہمی، فرنیچر کی فراہمی، باؤنڈری والز کی تعمیر، ٹائلٹ بلاکس کی تعمیر، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، کمروں کی مرمت، اضافی کلاس رومز کی تعمیر، پیرنٹس ٹیچرز کونسلز کی مضبوطی، ای سی ای رومز کا قیام، ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں سائنس اور آئی ٹی لیبز کا قیام اور پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں میں اساتذہ کی فراہمی وغیرہ شامل ہیں۔

محمود خان نے سکیموں پر تیز رفتار عمل درآمد کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ضم شدہ اضلاع میں درسی کتب کی مفت فراہمی کی سکیم بھی بندوبستی اضلاع کی طرح آئندہ مالی سال سے کرنٹ بجٹ میں ڈال دی جائے گی۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تیز رفتار عمل درآمد منصوبوں کے تحت ضم شدہ اضلاع کے پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کے طلبہ و طالبات کو وظائف کی فراہمی کیلئے 2540 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جن سے تقریباً 543085 طلبہ و طالبات مستفید ہوں گے، ضم شدہ اضلاع میں سکولوں تک رسائی، معیار تعلیم اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کیلئے نجی شعبے کے تعاون سے واؤچر سکیم، فائونڈیشن اسسٹڈ سکولز اور نئے سکولوں کے قیام جیسے پروگرام شروع کئے جارہے ہیں، تیز رفتار عمل درآمد پلان کے تحت منصوبوں میں ضم شدہ اضلاع کے 4711 پرائمری سکولوں، 548 مڈل سکولوں اور 363 ہائی سکولوں کی سولرائزیشن بھی شامل ہے۔

وزیراعلیٰ نے مذکورہ سکیم پر تیزرفتار عمل درآمد ضرورت پر زور دیا اور اس مقصد کیلئے محکمہ توانائی خیبر پختونخوا کی معاونت بھی حاصل کرنے کی ہدایت کی۔

علاوہ ازیں سکولوں میں داخلوں کی شرح بڑھانے، معیار کی بہتری اور شمالی وزیرستان میں کیڈٹ کالج کے قیام کے منصوبے بھی تیز رفتار عمل درآمد پروگرام کا حصہ ہیں۔

اجلاس کو فوری اثرات کے حامل (کیو آئی پی ) منصوبوں کے حوالے سے بھی بریفینگ دی گئی اور بتایا گیا کہ پانچ مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کیا جارہا ہے جن میں آزاد مانیٹرنگ یونٹ کی ضم شدہ اضلاع تک توسیع، تمام خالی آسامیوں پر بھرتی، پرائمری سکولوں کی تعمیر نو و بحالی، ناپید سہولیات کی فراہمی، ہائیر سیکنڈری سکولوں میں آلات کی فراہمی اور تعلیمی بورڈز میں نمایاں پوزیشن ہولڈرز طلبہ و طالبات کیلئے سکالرشپس پروگرام “ستوری دہ خیبرپختونخوا” شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ضم شدہ اضلاع میں ستوری دہ پختونخوا کے تحت 15.49 ملین مختص کئے گئے جن میں 3.87 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں، پوزیشن ہولڈر ز کا مکمل ڈیٹا بھی حاصل کیا جا چکا ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سکالرشپس کی تقسیم کا پروگرام متعلقہ قبائلی اضلاع میں ہی منعقد کیا جائے جس میں وہ خود پوزیشن ہولڈرز کو سکالرشپس دیں گے۔