ضم شدہ قبائلی اضلاع میں طلبا و طالبات کو ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا

Share on facebook
Share on pinterest
Share on twitter
Share on linkedin
Share on whatsapp

ضم شدہ قبائلی اضلاع میں سرکاری سکولوں میں داخل بچوں کو ماہانہ وظیفہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ضلع شمالی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیف اللہ خان نے بتایا کہ بچوں کو 500 اور بچیوں کو 1000 روپے ماہانہ وظیفہ ملےگا۔

ڈی ای او کے مطابق یہ وظیفہ کلاس کے جی سے لیکر پانچویں جماعت تک بچوں اور بچیوں کو ملے گا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیف اللہ خان نے بتایا کہ ماہانہ وظیفہ دینے کا یہ عمل یکم جنوری 2020 سے شروع ہوگا۔

واضح رہے کہ قبائلی اضلاع میں تعلیم کی صورت ابترہے تاہم ضم ہونے کے بعد حکومت ضم شدہ اضلاع میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے نہ صرف سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کیلئے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (آئی ایم یو) کو قبائلی اضلاع تک توسیع دی ہے بلکہ خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع میں تعلیم کیلئے 22 ارب روپے بھی مختص کئے ہیں۔

گزشتہ برس یعنی 2018 میں حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع میں تعلیم کی صورتحال کے حوالے سے جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سرکاری سکولوں میں داخل کل طالبات میں سے صرف پانچ فیصد ہی جماعت پنجم تک تعلیم حاصل کرپاتی ہیں۔

ساتوں قبائلی اضلاع کے حوالے سے مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق مذکورہ علاقوں میں مجموعی طور پر 73 فیصد طلباء جن میں 71 فیصد طلبہ جبکہ 79 فیصد طالبات ہیں ابتدائی سالوں میں ہی سلسلہ تعلیم ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔

ایجوکیشن منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی جانب سے جاری 102 صفحاتی رپورٹ ابتدائی کے علاوہ ثانوی تعلیم کی صورتحال بھی ابتر ہے جہاں تعلیم ادھوری چھوڑنے والی طالبات کی شرح 50 فیصد ہے۔

دوسری جانب شدت پسندی سے متاثرہ قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں بھی تعلیم ادھوری چھوڑنے کی شرح 63 فیصد ہے جس میں طالبات کی شرح 73 فیصد ہے جو تمام قبائلی اضلاع میں سب سے زیادہ ہے تاہم رپورٹ میں اس کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

واضح رہے کہ قبائلی اضلاع میں 5 ہزار 8 سو 90 سرکاری سکول ہیں جن میں چھ لاکھ 77 ہزار ایک سو طلباء زیرتعلیم ہیں۔

رپورٹ میں قبائلی علاقوں میں تعلیمی صورتحال کے ساتھ ساتھ سکولوں کی خراب حالت بارے بھی معلومات دی گئیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قبائلی اضلاع کے 43 فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی، 45 فیصد میں پینے کے صاف پانی جبکہ 45 فیصد میں باتھ روم کی سہولت دستیاب ہے جبکہ باقی سکولوں میں یہ بنیادی سہولیات نہیں جبکہ 33 فیصد سکول چاردیواری سے محرو ہیں۔