لنڈیکوتل، قیدی کی ہلاکت کے خلاف مقامی افراد کا احتجاج

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں قیدی کی ہلاکت کے خلاف ورثاء اور مقامی افراد نے احتجاج کیا ہے، دوسری جانب جیل حکام نے کہا ہے کہ مذکورہ شخص فرار ہونے کی کوشش میں گرنے کی وجہ سے جاں بحق ہوا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق نوجوان خاطر خان شنواری کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب 19 دسمبر 2019 کو تحصیل لنڈی کوتل کے سرحدی علاقہ میں بم دھماکہ کے نتیجے میں فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے تھے۔ سکیورٹی ذارئع کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ایف سی اہلکار معمول کی گشت پر تھے، دھماکے کے نتیجے میں ایک اہلکار تقدیر جاں بحق جبکہ دیگر تین زخمی ہوگئے جن میں نائب صوبیدار راحت گل، سپاہی کامران اور شاہ منیر شامل ہیں۔

جاں بحق نوجوان خاطر خان شنواری کے ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ خاطرخان کو تشدد کرکے مارا گیا ہے۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے خاطر خان 10 روز قبل محنت مزدوری کرکے کراچی سے آیا تھا۔

دوسری جانب سیکیورٹی حکم نے خاطر خان شنواری کے لواحقین کی جانب سے لگائے گئے الزام کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ خاطر خان شنواری پر تشدد نہیں کیا گیا بلکہ یہ فرار کی کوشش میں سیڑھیوں سے گر کر جاں بحق ہو گیا ہے۔

نمائندہ ٹی این این کے مطابق مظاہرین کا احتجاج اس وقت بھی پاک افغان سرحد پر جاری ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ باقی جن افراد کو بم دھماکے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے ان کو بھی رہا کیا جائے۔

دوسری طرف آئی جی ایف سی میجر جنرل راحت نسیم لنڈی کوتل چھاونی پہنچ گئے، سکیورٹی ذرائع کے مطابق آئی جی ایف سی تھوڑی دیر میں مظاہرین سے مذاکرات کریں گے۔