‘صرف ضلع باجوڑ میں 1571 اساتذہ کی ضرورت ہے’

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

باجوڑ یوتھ جرگہ کے سابق چیئرمین نے قبائلی اضلاع میں ریشنلائزیشن پالیسی کے نفاذ، انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کے عوام کو اُن کے حقوق کی فراہمی اور انضمام کے وقت طے کئے گئے وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا مطالبہ کردیا۔

باجوڑ کے صدر مقام خار میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے باجو ڑیوتھ جرگہ کے سابق چیئرمین جاوید رحمن تندر نے کہا کہ قبائلی اضلاع 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے خیبر پختونخواہ کا حصہ بن گئے ہیں اور انضمام کو ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن خیبر پختونخواہ حکومت نے قبائلی اضلاع کے سکولوں میں ریشنلائزیشن پالیسی یعنی چالیس طلبہ فی استاد کی پالیسی کو نافذ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انضمام کے وقت ہم بہت خوش تھے کہ قبائلی اضلاع اور خصوصاََ باجوڑ کے سکولوں میں چالیس طلبہ فی استاد کی پالیسی کے تحت اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے لیکن تاحال حکومت نے یہ پالیسی نافذ نہیں کی جس کے تحت ضلع باجو ڑمیں 1571 اساتذہ کی ضرورت ہے، باجوڑ کے سکولوں میں طلبہ کی تعداد میں رو ز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے لیکن اس کے برعکس بھرتیاں نہیں کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تر طلبہ سکول چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور نتیجتاً ڈراپ آؤٹ کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

جاوید تندر نے ایجوکیشن ڈائریکٹریٹ ضم شدہ اضلاع اور ایٹا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی وجہ سے ضم شدہ اضلاع میں ایک سال قبل محکمہ تعلیم کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کیلئے اشتہار جاری کیا گیا اور ایک سال گزرنے کے باوجود بھی اساتذہ کی بھرتیوں کا عمل مکمل نہیں کیا گیاِ ضم شدہ اضلاع میں ڈی ایم، پی ایس ٹی، سی ٹی، پی ای ٹی، اے ٹی، ٹی ٹی، آئی ٹی ٹیچر، قاری، لیب اسسٹنٹ کی خالی آسامیوں کیلئے ٹیسٹ کا عمل مکمل ہو چکا ہے مگر میرٹ لسٹ کو تاحال جاری نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے نوجوانوں میں شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں، مذکورہ آسامیوں کیلئے ٹیسٹ دینے والے نوجوان شدت سے میرٹ لسٹ کا انتظار کر رہے ہیں مگر ایجوکیشن ڈائریکٹریٹ ضم شدہ اضلاع اور ایٹا کی سست روی کے باعث میرٹ لسٹ تاحال جاری نہیں کیا گیا۔

 

انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایجوکیشن ڈائریکٹریٹ ضم شدہ اضلاع ضلع باجوڑ میں ایس ایس ٹی ٹیچر ز کی 50 خالی آسامیوں کیلئے جلد اشتہار جاری کرے۔