ضم شدہ اضلاع کیلئے تیز رفتار عملدرآمد پروگرام کے حوالے سے وزیراعلیٰ کو بریفنگ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی سکیموں کے لئے جاری وسائل کی نتیجہ خیز اور تیز رفتار یوٹیلائزیشن یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ قبائلی عوام کو جلد ریلیف دیا جاسکے اور ترقیاتی پلان تیزی کے ساتھ مکمل ہو سکے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ضم شدہ اضلاع کی ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے  وزیراعلیٰ محمود خان نے تمام صوبائی محکموں کو تحریری تنبیہ جاری کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ تمام محکمے مقررہ ٹائم لائنز کے اندر اپنے اہداف مکمل کرنے کے پابند ہیں، وقت ضائع کرنے کی قطعاً گنجائش موجود نہیں، واضح پیش رفت نظر آنی چاہیے، پندرہ دنوں کے بعد اگلے اجلاس میں وسائل کے استعمال اور سکیموں پر عملدرآمد کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔ ا

وزیراعلیٰ نے خصوصی طور پر شعبہ صحت اور تعلیم کے حوالے سے علیحدہ اجلاس کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ زمینی حقائق کے عین مطابق پیش رفت سے آگاہ کیا جائے اور ضم شدہ اضلاع میں ہسپتالوں اور سکولوں میں اساتذہ اور ڈاکٹرز کی فراہمی ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے۔

وزیراعلیٰ کو ضم شدہ اضلاع کے لئے تیز رفتار عملدرآمد پروگرام (اے آئی پی)، فوری اثرات کے حامل منصوبوں (کیو آئی پی) اور سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی ) پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو تیز رفتار عملدرآمد پروگرام کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ یہ تین سالہ پلان ہے جو بنیادی طور پر دس سالہ ترقیاتی حکمت عملی کے تحت بنایا گیا ہے، 10 سالہ ترقیاتی حکمت عملی کے تحت ضم شدہ اضلاع میں دس سالوں میں مجموعی طور پر ایک ہزار ارب روپے خرچ کئے جائیں گے، اے آئی پی پلان کے تحت پہلے تین سالوں یعنی 2019 سے 2022 کے لئے تین سو ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ مالی سال 2019-20 کے لئے اٹھارہ مختلف شعبوں میں 59 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے 10.1 ارب روپے شعبہ صحت، 10.692 ارب روپے ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لئے مختص ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلے تین سالوں کے دوران سماجی خدمات کے شعبوں صحت، تعلیم، آب نوشی، احساس پروگرام اور قبائلی عوام کی زندگی پر فوری اثرات کے حامل منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی، مذکورہ پلان کے تحت شعبہ سپورٹس، کلچر، سیاحت اور امور نوجوانان کی دس مختلف سکیموں کے لئے 5,120 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں، سڑکوں کے شعبہ میں کل 109 سکیموں کے لئے مجموعی لاگت 20,000 ملین روپے میں سے 5000 ملین روپے رواں مالی سال کیلئے مختص کیے گئے ہیں، قبائلی عوام کو فوری ریلیف دینے کے لئے محکمہ ریلیف کے تحت تین مختلف سکیموں کے لئے بھی 6,598ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں شعبہ معدنیات کی تین سکیموں کے لئے 850ملین روپے ، محکمہ سماجی بہبود کے لئے 760ملین روپے ، جبکہ توانائی اور بجلی کی نو مختلف سکیموں کے لئے 3,419ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کے تیز رفتار عملدرآمد پروگرام کے لئے پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جس کو حتمی شکل دینے کے بعد منظوری کے لئے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، علاوہ ازیں ترقیاتی کام کی پیش رفت کی نگرانی کے لئے طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، مجموعی ترقیاتی پروگرام پر نظر رکھنے کے لئے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کے تحت ایک سب کمیٹی بھی ہوگی جو محکمہ خزانہ اور پی اینڈ ڈی کے حکام پر مشتمل ہو گی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ فوری اثرات کے حامل منصوبوں (کیو آئی پی )کے تحت مجموعی طور پر انیس منصوبے منظور کئے گئے جن میں سے سترہ منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے، ان منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 8,458.57 ملین مختص کئے گئے ہیں جن میں سے 4,424.81 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں، پہلے سے منظور شدہ صحت کی سہولیات کی سولرائزیشن کی مجموعی لاگت 110.11 ملین روپے ہے جن میں سے 99.11 ملین روپے خرچ کئے جا چکے ہیں، ضم شدہ اضلاع کی تین سو مساجد کی سولرائزیشن کے لئے 166.431 ملین روپے جاری کئے گئے ہیں اور اس مقصد کے لئے خریداری کا عمل شروع ہے،  انصاف روزگار سکیم کے تحت 1100 ملین روپے مختص کئے گئے جن میں سے 301.4 ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں، آئی ایم یو کی ضم شدہ اضلاع تک توسیع کے لئے 10.8ملین روپے جبکہ صحت انصاف کارڈ کی توسیع پر 590ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں، اسی طرح سات ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اور چار تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں کمی بیشی پوری کرنے اور سٹاف کی فراہمی پر 238.7ملین روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔

وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ صحت سہولت پروگرام کے تحت ضم شدہ اضلاع میں 566,958 کارڈز تقسیم کئے جا چکے ہیں تاہم قبائلی عوام کو قومی شناختی کارڈ کے ذریعے صحت سہولت پروگرام کے تحت علاج معالجے کی سہولت بھی دی جارہی ہے، شعبہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں آئی ایم یو کی توسیع پر 179.7ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں جبکہ تمام قبائلی اضلاع میں آئی ایم یو کے لئے مستقل سٹاف بھی ہائیر کیا جا چکا ہے، سو پرائمرای سکولوں کا معیار بلند کرنے اور 350تباہ شدہ پرائمری سکولوں کی بحالی پر 7.9 ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں، سب ڈویڑنل لیول پر 25ٹی ایم ایز کو فعال بنانے کے لئے 588ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں۔

اجلاس کو ضم شدہ اضلاع کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 1,119سکیمیں پلان کی گئی ہیں جن کی مجموعی لاگت 186 ارب روپے ہیں، مختلف ترقیاتی سکیموں کے تحت جون 2019 تک 46 ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں، مختص شدہ وسائل کا 42 فیصدامبریلا سکیموں کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تقریباً 50 سکیمیں انتہائی اہم اور گہرے اثرات کی حامل ہیں جن کیلئے 1.6 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں تاہم ان سکیموں کیلئے مزید وسائل درکار ہو سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر شعبہ صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع میں ہسپتالوں اور سکولوں کے موجودہ اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر فعال بنا یا جائے۔

انہوں نے سکولوں اور ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن ، آلات کی خریداری اور سٹاف کی ہائرنگ کی تفصیلات جلد پیش کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ ضم شدہ اضلاع میں کسی ایک فرد کی بجائے پورے معاشرے کو مد نظر رکھتے ہوئے ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمدیقینی بنائی جائے۔

محمود خان نے ضم شدہ اضلاع کی 300 مساجد کی تیز رفتار سولرائزیشن جبکہ انصاف روزگار سکیم کے تحت قرضوں کی تقسیم آئندہ دو ماہ میں مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔