ضم اضلاع میں ”ڈی آر سیز“ اور ”پی ایل سیز“ کے قیام کی ہدایت

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم خان نے متعلقہ اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے ضم شدہ ضلاع میں فوری طور پر ڈی آر سیز (تنازعات کے حل کی کونسلیں) اور پی ایل سیز (پبلک لیزان کونسلیں)قائم کریں تاکہ قبائلی عوام کو سستی اور فوری انصاف کی حصول کیساتھ ساتھ جرائم کے خاتمے اور امن و آمان کے قیام کو یقین بنایا جاسکے۔

یہ ہدایات انہوں نے سنٹرل پولیس پولیس آفس پشاور سے چیف کیپٹل سٹی پولیس پشاور، ریجنل پولیس آفیسرز سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ، مردان اور بنوں کے نام ایک خصوصی سرکلر میں جاری کی ہیں جس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے ضم شدہ اضلاع میں کمیونٹی پولیسنگ کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات اُٹھائیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے ایک ماہ کے اندر اندر تمام نئے اضلاع بشمول تحصیل کی سطح پر ڈی آر سیز اور تمام تھانوں کی سطح پر پی ایل سیز کے قیام کو یقینی بنائیں۔

سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ لوگوں کے چھوٹے چھوٹے تنازعات کے پُر امن حل کے لیے ڈی آر سیز اور مقامی سطح پر جرائم کے خاتمے کے لیے پی ایل سیز وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔

پولیس حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ خدمت خلق کے جذبے سے سرشار لوگوں کو ان کونسلوں میں شامل کرکے قبائلی عوام کے چھوٹے چھوٹے تنازعات/جھگڑوں کے پُر امن حل اور جرائم کے خاتمے کے لیے مخلصانہ کوششیں کریں۔

سرکلر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قائم ہونے والی ڈی آر سیز ہر حوالے سے قبائلی اقدار، روایات اور ثقافت کا آئینہ دار ہونی چاہیں۔

یہ امر قابل ذکر رہے کہ ڈی آر سیز(تنازعات کے حل کی کونسلیں) اورپی ایل سیز (پبلک لیزان کونسلیں) خیبر پختونخوا ایکٹ 2017 کے تحت تفویض کردہ اختیارات کے دائرہ کار کے مطابق فرائض سرانجام دیں گی۔