وزیراعلیٰ کا ضلع مہمند میں پاک افغان سرحد کے اگلے مورچوں کا دورہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ضلع مہمند میں پاک افغان سرحد کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا اور سلالہ پوسٹ پر تعینات پاک فوج کے جوانوں سے ملاقات کی ۔

وزیراعلیٰ نے بارڈر پر سکیورٹی فورٹ کا افتتاح بھی کیا، آئی جی ایف سی میجر جنرل راحت نسیم احمد خان بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ نے مامد گاٹ کیڈٹ کالج کا دورہ بھی کیا اور کہا ہے کہ وہ ضلع مہمند کے اگلے دورہ کے دوران مامد گاٹ کیڈٹ کالج کا باضابطہ افتتاح کریں گے، 77 ایکڑ اراضی پر محیط 760 ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے مامد گٹ کیڈٹ کالج میں مجموعی طور پر 900 طلباء کی استعداد موجود ہے۔

مامد گٹ کیڈٹ کالج میں بریفینگ اور باجوڑ اور مہمند کے قبائلی عمائدین کے ایک جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انضمام مخالف عناصر کی سازشوں کے باوجود سابقہ فاٹا کا صوبے میں انضمام مکمل ہو چکا ہے، اب موجودہ حکومت کی توجہ قبائلی علاقوں میں انفراسٹرکچر اور اداروں کو بحال و فعال کرنے پر مرکوز ہے۔

اُنہوں نے یقین دلایا کہ قبائلی عوام کا کسی قسم کا استحصال نہیں ہو گا، قانونی، مالی، سماجی اور معاشی تمام تر حقوق کی فراہمی ممکن بنائیں گے، صوبائی حکومت کے صحت انصاف کارڈ، انصاف روزگار سکیم اور دیگر فوری اثرات کے حامل منصوبے قبائلی عوام کیلئے سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، ہم امن کی بقاء کیلئے ہر قربانی کیلئے تیار ہیں۔

محمود خان نے کہاکہ قبائلی عوام سے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ کی طرف سے کئے گئے تمام اعلانات اور وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جارہا ہے، قبائلی عوام کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت وزیراعظم اور آرمی چیف قبائلی اضلاع پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا  کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں کیلئے 83 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ پہلے صرف 24 ارب روپے ہوا کرتے تھے، صوبائی حکومت نے اپنی اے ڈی پی سے 11 ارب روپے قبائلی اضلاع کیلئے فراہم کرکے ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے۔

بعدازاں وزیراعلیٰ نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے بھی پلائے۔