میر علی بازار کے 25 تاجروں میں 50 کروڑ مالیت کے امدادی چیک تقسیم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضم شدہ ضلع شمالی وزیرستان کے تاجروں کی بحالی کے اقدام کے تحت میر علی بازار کے 25 تاجروں میں مجموعی طور پر 50 کروڑ کی مالیت کے امدادی چیک تقسیم کردیے، بدترین دہشت گردی کے دوران ان تاجروں کا کاروبار بند اور دوکانیں تباہ ہو چکی تھیں۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ شمالی وزیرستان کے تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کر رہے ہیں اور اُنہیں سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، قبائلی عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں، ہم اُنہیں کبھی بھی مایوس نہیں ہونے دیں گے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں متاثرین کو معاوضے کے چیک دینے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان نے کہا کہ تاجر برادری کی بحالی کیلئے مجموعی طور پر 7 ارب 76 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے 2 ارب 80 کروڑ روپے میر علی بازار کی 3707 دوکانوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح ایک ارب 69 کروڑ روپے میران شاہ بازار کی 5654 دُکانوں کی بحالی جبکہ 33 کروڑ روپے 69 پٹرو ل پمپس کے نقصانات کے ازالے اور بحالی کیلئے مختص کئے گئے ۔ علاوہ ازیں 100 کنال پر محیط علاقے میں ترقیاتی کاموں کیلئے بھی دو ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکومت وسائل کی کمی کے باوجود ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی اور بہتری کیلئے اخلاص کے ساتھ کام کر رہی ہے، 28 ہزار سے زائد لیویز اور خاصہ داروں کو خیبر پختونخوا پولیس میں ضم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام قبائلی عوام کو صحت انصاف کارڈ کے تحت علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی، انفراسٹرکچر کی ترقی، ایک سال کی قلیل مدت میں جوڈیشری سمیت تمام صوبائی محکموں کی نئے اضلاع تک توسیع جیسے اہم اقدامات موجودہ حکومت کی قبائلی اضلاع کی فلاح و ترقی اور بحالی کیلئے سنجیدہ کاوشوں کا واضح ثبوت ہیں۔