پشاور، فاٹا انضمام کے حوالے سے کثیر الجماعتی کانفرنس کا انعقاد

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قومی وطن پارٹی کے زیر اہتمام فاٹا انضمام کے حوالے کثیر الجماعتی کانفرنس وطن کور پشاور میں منعقد ہوئی جس میں سیاسی جماعتوں نمائندگان اور سول سوسائٹی کے ممبران اور قبائلی مشران نے ضم شدہ اضلاع میں سیاسی، معاشی اور انتظامی اصلات کی عدم نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان اضلاع کیلئے اعلان شدہ 111 ارب روپے کی سالانہ مختص شدہ رقم اور ماضی میں مختص کردہ 21 ارب روپے کا 56 فیصد حصہ ابھی تک متعلقہ علاقوں کو نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے وہاں پر انتظامی، ترقیاتی، سماجی بہبود اور عدالتی نظام کا نفاذ پر پوری طرح عمدرآمد نہیں ہوا۔

کانفرنس میں قومی وطن پارٹی سمیت پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، پاکستان مسلم لیگ(ن)، عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، مزدور کسان پارٹی، خیبر پختونخوا اولسی تحریک کے علاوہ سماجی و معاشی تحریکوں اور عوامی نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

کانفرنس کی صدارت قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپاؤ کر رہے تھے۔

کانفرنس کے آخر میں ایک متفقہ اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں ضم شدہ اضلاع میں نافذ کئے گئے قوانین بشمول ایکشن ان ایڈ آف سول پاوراور منرل ایکٹ کو بنیادی انسانی حقوق اور آئین کے منافی قرار دیا گیا۔

اعلامیہ میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قبائلی علاقوں کے ممبران کو کابینہ میں نمائندگی دینے کے علاوہ قانون سازی میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع دے۔

اعلامیہ میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ضم شدہ اضلاع میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری لانے کیلئے سول انتظامیہ کے معاملات کو بہتر کرتے ہوئے لیویز اور خاصہ دار فور س کے عملے کو پولیس میں ضم کیا جائے۔

حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے علاوہ لوگوں کے نقصانات کی تلافی کی جائے۔

اعلامیہ میں حکومت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیرون امداد اور مراعات کی تفصیلات فراہم کرنے اور ان فنڈز کی آڈٹ کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر قبائلی علاقوں میں سات یونیورسٹیاں، سات ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال، میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز قائم کرے۔

کانفرنس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع میں زراعت کے فروغ اور آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے اور وہاں کے لوگوں کو بلاسود زرعی قرضے فراہم کرنے کیلئے وہاں پر بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے دفاتر قائم کئے جائیں۔ شرکائے کانفرنس نے ضم شدہ قبائلی علاقوں میں بلایاتی انتخابات کے فوری انعقاد،جیلوں میں قید سیاسی و سماجی کارکنوں کی رہائی اور جنگلات و جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔

کانفرنس سے احتتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپاؤ نے کہا کہ ان کی پارٹی کو منرل ایکٹ پر تحفظات ہیں کیونکہ یہ عجلت میں پاس کیا گیا اور اپوزیشن کو اس پر بحث کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا جس سے حکومت کی بد نیتی ظاہر ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ضم شدہ اضلاع کے لوگوں کو اپنے حقوق سے محروم کرنا ہے، لوگوں کو حقوق دیئے بغیر ترقی بے معنی ہے۔

اس موقع پر  ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ کانفرنس یہ اعلان کرتی ہے کہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد 18 ماہ گزرنے کے باوجود کسی بھی شعبہ ہائے زندگی بشمول سیاسی، سماجی،نترقیاتی، معاشی انتظامی، عدالتی نظام کے قیام کیلئے کوئی بھی موثر اقدامات نہ اٹھانے کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھتی ہے اور اس کی پر زور مذمت بھی کرتی ہے۔

کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت کی طرف سے اعلان شدہ رقم یعنی 111 ارب روپے سالانہ کی مختص شدہ رقم تو درکنار سالانہ ماضی میں مختص کردہ 21 ارب روپے کا 56 فیصد بھی ابھی تک متذکرہ بالا علاقہ جات کو نہیں دیئے گئے جس کی وجہ سے تمام انتظامی، ترقیاتی، سماجی بہبود، عدالتی نظام وغیرہ کو ابھی تک بہتری کی طرف نہیں لے جایا جا سکا۔

مزید براں روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قیمت اور مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے یہ کانفرنس متفقہ طور پر پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ 111 ارب روپے مختص شدہ نہایت ہی قلیل ہے لہٰذا فوری طور اس کو بڑھا کر 200 ارب روپے کرکے یہ رقم ان علاقہ جات کی بہتری کیلئے دیئے جائیں۔

کانفرنس متفقہ طور پر بہ بانگ دہل یہ اعلان کرتی ہے کہ ان علاقوں کے قدرتی /معدنی وسائل کو صوبے کا حق تسلیم کرکے مقامی /علاقائی/قوموں اور قبائل کے حقوق کو مد نظر رکھ کر فیصلہ جات کرے اس بات بھی ہر قسم کی قانونی سازی ،قانون و آئین اور Rules of Business کو مد نظر رکھ کر کی جائے، مزید براں معدنی وسائل سے متعلق جمع شدہ ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

یہ کانفرنس زور دے کر یہ فیصلہ علی الاعلان کرتی ہے کہ ایکشن ان ایڈ جیسے قوانین ہمارے آئین میں دیے ہوئے بنیادی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے لہٰذا ایسے قوانین کی یہ کانفرنس پرزور مذمت کرتی ہے، مزید براں اس قانون کی بابت ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف صوبائی حکومت کا اعلیٰ ترین عدالت میں جانے کا فیصلہ آئین اور قانون کے تناظر میں قابل غور ہے لہٰذا صوبائی حکومت اپنی اپیل /پٹیشن کو فوری طور پر واپس لے کیونکہ فاٹا کے انضمام کے بعد اس قسم کے قوانین کی مزید ضرورت کسی صورت میں نہیں رہی۔، گم شدہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے، قبائلی اضلاع سے صوبائی ممبران کو صوبائی کابینہ میں نمائدگی دینے کے علاوہ قانون سازی میں ان کے کردار کو اہمیت دی جائے، ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص شدہ فنڈز منتخب نمائندوں کے ذریعے شفاف طریقے سے خرچ کرنے کو ترجیح دی جائے، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے سول انتظامیہ کے معاملات کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے لہٰذا لیویزاور خاصہ داران کی صلاحیتوں اور قربانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان اداروں کے افراد پولیس میں مدغم کرکے ریگولرائز کیا جائے اور فوری طور پر تھانوں، چوکیوں وغیرہ پر تعینات کرکے امن و امان کی صورتحال کو درست کرکے بہتر کیا جائے۔ قبائیلی علاقوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں۔

قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ عوام کا حق حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے خیبر پختونخوا اسمبلی، صوبائی وزیر اعلیٰ اور کابینہ کا اختیار کھلی طور پر تسلیم اور گورنر کا دخل ممنوع اور غیر آئینی قرار دیاجائے اور اس کے تمام اقدامات اور قائم کردہ کمیٹیاں کالعدم قرار دی جائیں، آئینی، انتظامی عدالتی خاصہ دار اور لیویز کے بارے میں اعلانات پر فوری اور موثر عمل درآمد کیا جائے، قبائلی علاقوں میں دھشت گردی اور انتہا پسندی کے ہاتھوں اور ان کے خلاف آپریشن سے ہونے والے نقصانات کا شفاف طریقے سے ازالہ کیا جائے، فوری طور قبائیلی اضلاع میں مردم شماری کا ازسر نو بندوبست کیا جائے اور جب تک مردم شماری مکمل نہ ہو این ایف سی ایوارڈکے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کو بشمول قبائلی علاقہ جات کا حصہ فوری طور پر ادا کیا جائے۔

علاوہ ازیں حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی علاقوں کے لئے اعلان شدہ بیرون امداد اور مراعات کی تفصیل فراہم کی جائے اور غیر جانبدار آڈٹ کرایا جائے، قبائلی علاقوں میں دھشت گردی اور انتہا پسندی کے ہاتھوں بے گھر، آئی ڈی پیز کی بحالی اور گھر واپسی کے لئے فوری اور موثر اقدامات کئے جائیں اور واپس جانے والے کنبوں کو معاوضہ فی الفور ادا کیا جائے، فوری طور پر قبائیلی علاقوں میں 7 یونیورسٹیاں اور 7 ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال 3 میڈیکل اور انجنیئرنگ، لاء کالجز، ٹیکنیکل ایجوکیشن و نرسنگ اور ٹیچر ٹرینگ ادارے قائم کئے جائیں، فوری طور بندوبست اراضی کا نظام قائم کیا جائے، خواتین کی ملکیت کا تعین کے لئے ایک کمیشن اور ان کے لئے خصوصی بلا سود زرعی قرضے فراہم کئے جائیں، مالیا تی ادارے مثلا بینک، انشورنس اور سرمایہ کار کمپنیاں کو قائم کرنے میں مدد کی جائے۔تاکہ تجارتی، زرعی اور صنعتی قرضے فراہم ہوسکیں۔مزید براں پبلک اینڈ پرائیویٹ پارٹنر شپ ایکٹ کے ذریعے ضم شدہ قبائلی علاقوں کے کاروباری افراد کے ذریعے خاص طور پر معاشی اداروں کو فروغ دیا جائے۔

کانفرنس کے شرکاء نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ سی پیک اور اس قسم کے دوسرے معاشی و معاشرتی بین الاقوامی منصوبوں میں ضم شدہ قبائلی علاقہ جات کو نظر انداز کرناآئین و قانون و بین الاقوامی قانون کی سراسرخلاف ورزی ہے لہٰذا ان منصوبوں کا اطلاق ضم شدہ قبائلی علاقہ جات پر فوری طور پر کیا جائے تاکہ یہ پسماندہ علاقہ اس ملک کے اور خاص کر اس صوبے کے دوسرے علاقہ جات کی طرح ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے، آبپاشی کا نظام بہتر بنانے کے لئے خصوصی فنڈ، شمسی توانائی کے استعمال کو بڑھانے کے لئے مختص کیا جائے، صوبے کی اے ڈی پی سے سے کم از کم30 فیصد قبائیلی اضلاع کے لئے مختص اور شفاف طریقے سے خرچ کیا جائے، نیز عوامی نمائندگان کو ضم شدہ علاقہ جات میں امن و امان بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کرنے پورا پورا موقع دیا جائے، کم از کم ٧ فری انڈسٹریل زون قائم کئے جائیں اور 20 سال کے لئے ٹیکس رعایت، سستی بجلی، گیس اور بلا سوداور دیگر سہولیاتی قرضے فراہم کئے جائیں۔

حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ سرحد کے دونوں طرف ١١ کلو میٹر میں رہنے والے باشندوں کے لئے اییزمنٹ رائٹ پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور تجارتی اقدامات میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے،۔ رسل و رسائل کے ذرائع بشمول ریل، روڈ، تھری جی، فور جی اور انٹرنیٹ کی سھولت کو فوری طور پر فراہم کیا جائے، قبائلی بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لئے ایک خصوصی بے روزگار فنڈ کا قیام عمل میں لایا جائے جو آسان اقساط پر کاروبار اور اعلیٰ تعلیم کے لئے قرض فراہم کرے، نیز صوبے کی ملازمتوں میں کم از کم 30 فیصد ملازمتیں قبائلی نوجوانوں کو فراہم کرنے کا بندوبست کیا جائے۔

شرکاء نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ فاٹا سیکرٹریٹ اور دوسرے قبائیلی ملازمین کو صوبے کے ملازمین تصور کئے جائیں اور سینیارٹی بحال رکھی جائے، وفاق میں خیبر پختونخواکے حصے کا ازسر نو تعین کیا جائے اورجب تک یہ نہ ہوضم شدہ فاٹا کی قومی اسمبلی کی سیٹیوں کی تعداد برقرار رکھی جائے، نیز سینیٹ کے سامنے موجود 26ویں آئینی ترمیم کو جلد سے منظور کیا جائے، قبائلی علاقوں میں ماحولیات و سیاحت اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو ریاستی و حکومتوں اور خاص کر صوبائی حکومت اور پرائیویٹ اداروں کی سرپرستی کی ازاشد ضرورت ہے لہٰذا یہ کانفرنس پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ صوبائی حکومت وغیرہ کھیلوں کے میدان اور پارک بنانے کو ترجیح دے اور حقیقی معنوں میں اپنا کردار آئین وقانون اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں جو کہ ہماری ریاست کے Rectified شدہ کو لاگو کرکے اپنی کمٹمنٹ کو پورا کرے۔

کانفرنس کے شرکاء کے مطابق فاٹا کے انضمام کے وقت ہماری مرکزی حکومت نے اس علاقے کی بہتری کیلئے جو اقدامات اٹھانے کیلئے ایک اعلان کیا تھا نہ ہی مرکزی حکومت اس کے تحت بنائی ہوئی کمیٹی کی میٹنگز سات دن بعد کر رہی ہے اور نہ ہی ان اعلانات کو لاگو کرنے کیلئے کسی قسم کا کوئی قدم اٹھا رہی ہے یہ کانفرنس حکومت کے اس غیر سنجیدہ اقدام کو شک کی نگاہ دیکھتی ہے اور پر زور مذمت بھی کرتی ہے لہٰذا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ متذکرہ بالا حکومتی کمیٹی اپنے جاری کردہ اعلان کے مطابق عملی اقدامات کرے اور اپنی کمٹمنٹ کے مطابق سات دن بعد اپنی میٹنگ نشست کو شروع کرے اور قوم کو میڈیا وغیرہ کے ذریعے آگاہ بھی کرے۔

حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ضم شدہ علاقہ جات میں بلدیاتی انتخات کا فوری انعقاد جلد یقینی بنایا جائے، ضم شدہ قبائلی علاقہ جات میں جنگلات و جنگلی حیات کی حفاظت کو بہتر بنایا جائے، ضم شدہ قبائلی علاقوں میں لینڈ مائنز کو جلد سے جلد صاف اور ختم کیا جا ئے، جیلوں میں قیدی سماجی و سیاسی کارکنوں، لیڈروں کو خاص طور پر سائبر کرائم کے ملزمان و مجرمان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اس ملٹی پارٹی کانفرنس کو مندرجہ بالا مسائل حل ہونے تک ایک فورم بنایا جائے اور سب شریک فریقین باری باری ان مسائل کے بارے میں کانفرنس، سیمینار اور جلسوں کا اہتمام کریں۔