حکومت کا عزم استحکام آپریشن پر ایوان میں سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس بلانے کا اعلان

قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے عزم استحکام آپریشن کو مسترد کردیا جبکہ وفاقی حکومت نے آپریشن پر بحث کے لئے ایوان میں قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس بلانے کا اعلان کر دیا۔

اتوار کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے عزم استحکام آپریشن کے خلاف شدید ہنگامہ آرائی کی گئی ، اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ اور نعرے بازی کے بعد ایوان سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا گیا۔

شور شرابے کے باعث ڈپٹی اسپیکر کو کارروائی چلانے میں بھی مشکلات پیش آئیں۔

وزیر دفاع کا خطاب

اپوزیشن کے احتجاج پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھڑک اٹھے اور کہا کہ اپوزیشن نے اصلیت ظاہر کر دی یہ دہشت گردوں کی ساتھی ہے ، یہ کل بھی 9 مئی والے تھے آج بھی 9 مئی والے ہیں ،ان کا اندر بیٹھا لیڈر روز پینترے بدلتا رہتا ہے۔

وزیردفاع کی جانب سے عزم استحکام آپریشن کی منظوری کا بھرپور دفاع بھی کیا گیا اور اپوزیشن کی شدید تنقید پر واضح کردیا کہ آپریشن کا معاملہ ایوان میں لایا جائے گا ۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اپیکس کمیٹی کے فیصلے کابینہ میں رکھیں گے اور ایوان میں لائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے اجلاس میں فیصلوں کی حمایت کی لیکن اپوزیشن اپنی اصلیت دکھا رہی ہے اور دہشت گردوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے ٹکٹ نہ دینے پر یہ لوگ اس پارٹی میں چلے گئے، اپوزیشن میں موجود بہت سے اراکین مجھ سے ٹکٹ مانگتے تھے، ان کالیڈر بھی پینترے بدلتا تھا، اپوزیشن ملک کےساتھ ہے نہ عوام کے ساتھ، اپوزیشن گالیاں دیتی ہے،ہاؤس کی تضحیک کرتی ہے، اپوزیشن شہدا کے خلاف کھڑی ہے، اپوزیشن مظاہرہ کرکے دہشتگردوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کسی ایک اکثریت کاملک نہیں، قراردادلاناچاہتےہیں،ملک میں اقلیتیں محفوظ ہوسکیں، پاکستان میں کوئی مذہبی اقلیت محفوظ نہیں، یہاں اقلیتوں کو روزانہ قتل کیاجارہاہے، مذہب کے نام پراقلیتیں غیرمحفوظ ہوگئی ہیں، اقلیتوں کے معاملے پرایوان میں اتفاق رائے ہونا چاہیے، اقلیتوں کاتحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اقلیتوں کیخلاف بڑھتے واقعات پوری قوم کیلئے باعث شرم ہیں۔

وزیر قانون کا خطاب

ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ عزم استحکام آپریشن سے متعلق وزیردفاع بات کرنا چاہتے تھے لیکن اپوزیشن نے بات نہیں کرنے دی، آپریشن کیسے کیا جائے گا؟ اس پر بحث کریں گے اور ہم یہاں قومی سلامتی کمیٹی کو بلائیں گے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی اجلاس میں بیٹھیں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپیکس ہو یا کوئی بھی کمیٹی ، پارلیمنٹ سے بڑی نہیں  جبکہ انہوں نے ان کیمرہ بریفنگ کا مطالبہ بھی کیا۔

بیرسٹر گوہر کا ردعمل

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کوئی بھی کمیٹی پارلیمنٹ سے بالا نہیں ، ہر فیصلہ ایوان کی مشاورت سے ہونا چاہیے ، ایوان کوان کیمرا بریفنگ دیں ، مشورے سے کارروائی کریں ، حکومت کسی معاملے پر ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہی۔

اپوزیشن کا مؤقف تھا خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع کے باسی پہلے ہی دربدر ہیں ، نئے آپریشن سے ان کی مشکلات مزید بڑھیں گی لیکن حکومتی ارکان نے تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا کہ عزم استحکام آپریشن صرف دہشت گردوں کے خلاف ہے۔