چین کیساتھ آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، زراعت میں اشتراک کے خواہاں ہیں، محمد شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی سے ملکی زرعی شعبے کی پیداوار اور زرعی برآمدات میں اضافے کیلئے کوشاں ہے، چین کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید زراعت و دیگر شعبوں میں اشتراک کے فروغ کا خواہاں ہیں۔

وزیراعظم نے چین کی کیمونسٹ پارٹی شینزن کے سربراہ اور صوبہ گوانگ ڈونگ کے نائب سربراہ مینگ فینلی سے شینزن میں ملاقات کی، ملاقات میں مینگ فین لی نے وزیراعظم کا شینزن آنے پر خیرمقدم کیا اور انہیں شینزن کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

محمد شہباز شریف نے کہا کہ کئی برس بعد شینزن آکر دلی خوشی ہوئی۔ شینزن کی حکومت اور اس کے عوام کی مہمان نوازی پر مشکور ہوں، پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے اونچی، سمندر کی گہرائی جتنی گہری اور شہد سے میٹھی ہے، پاکستانی قیادت اور عوام ہر مشکل وقت میں چین کے تعاون پر چینی قیادت اور اس کے عوام کی مشکور ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چین کی ون چائنہ پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ شینزن لاہور کا سسٹر شہر اور گوانگ ڈونگ پنجاب کا سسٹر صوبہ ہے، پاکستان چین کی ترقی سے بہت متاثر ہے اور چین کی ترقی سے سیکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سی پیک کے دوسرے مرحلے میں پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے اشتراک اور سرمایہ کاری سے ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے کوشاں ہے۔ اپنے دورے کے شینزن سے آغاز کا مقصد شینزن کی ترقی بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی سے سیکھنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان افرادی قوت ہے جو ملکی آبادی کا 60 فیصد ہے، شینزن اور پاکستان میں یہ قدر مشترک ہے،امید کرتا ہوں کہ شینزن میں پاکستانی طلباء کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

مینگ فین لی نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی بہت مضبوط اور گہری ہے۔شینزن کی حکومت اور شینزن کے لوگوں کیلئے آپ کی میزبانی اعزاز کی بات ہے۔ امید کرتا ہوں آپ کی چینی اعلیٰ قیادت بالخصوص چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی کیانگ کے ساتھ ملاقاتیں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور شراکت داری کے فروغ کے حوالے سے مفید ثابت ہوں گی۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر نجکاری عبدالعلیم خان اور وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ بھی شریک تھیں۔