ہمیں دیکھنا ہے بشکیک سے آنیوالے طلبہ کا مسئلہ کیسے حل کریں: وزیر خارجہ

وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم  اسحاق ڈار نے کہا ہےکہ بشکیک میں جن طلبہ کا فائنل ایئر ہے وہ اپنی ڈگری مکمل کرکے واپس آئیں اور  ہمیں دیکھنا ہے کہ جو طلبہ واپس آگئے ہیں ان کا مسئلہ کیسے حل کیا جائے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آستانہ میں کرغزستان کے وزیر خارجہ سے بشکیک میں طلبہ کے مسئلے پر بات کی، کرغز وزیرخارجہ نے یقین دلایا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں اورکرغز صدر نے بھی کہا ہم اس طرح کے واقعات کوبرداشت نہیں کریں گے، بشکیک واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق وہاں سفیر نے بتایا کہ ہمارے 1100 ورکرز وہاں ہیں جو  ایجنٹس کے ذریعے پہنچے، ان کے پاس ویزے نہیں لیکن وہ کرغزستان میں فیکٹریز میں کام کررہے ہیں، بشکیک میں کام کرنیوالے 1100 ورکرز کو فوری ویزا فراہم کردیا جائےگا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اب تک 3200 طلبہ بشکیک سے واپس آچکے ہیں، 4036 طلبہ آج رات تک کرغزستان سے نکل چکے ہوں گے جب کہ واقعے کے  تین میں سے دو زخمیوں کو اسپتال سے ڈسچارج کیا جاچکا ہے اور  ایک طالب علم شاہ زیب ابھی تک زیرعلاج ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ بشکیک فسادات کے بعد طلبہ خوف کا شکار ہیں، جن طلبہ کا فائنل ایئر ہے  وہ اپنی ڈگری مکمل کرکے  واپس آئیں،  وزیراعظم نے ایک کمیٹی میری سربراہی میں بنادی ہے ، ہمیں دیکھناہے کہ جو طلبہ واپس آگئے ہیں ان کا مسئلہ کیسے حل کیا جائے، کمیٹی اس بات کا بھی احاطہ کرے گی کہ طلبی کو کن کن ممالک میں میڈیکل تعلیم کی اجازت دی جائے، کمیٹی دو ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔