یو این سیکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے ٹی ٹی پی کی افغان سرپرستی عیاں کر دی

اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے ٹی ٹی پی کی افغان سرپرستی عیاں کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اینالیٹکل اور سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی 33 ویں رپورٹ میں ٹی ٹی پی کی افغانستان سے کی جانے والی کارروائیوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔

سیکیورٹی کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے ایک علاقائی خطرہ ہے، ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں کو افغانستان سے مدد فراہم کی جا رہی ہے، ٹی ٹی پی کو القاعدہ کی جانب سے بھی مدد فراہم کی جا رہی ہے، اور القاعدہ ٹی ٹی پی کی استعداد بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

سیکیورٹی کونسل رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی تحریک جہاد پاکستان کے نام سے بھی کام کر رہی ہے جسے افغانستان سے حمایت مل رہی ہے، تحریک جہاد پاکستان ٹی ٹی پی نے پاکستان کا افغان طالبان پر پریشر زائل کرنے کے لیے بنائی ہے، اور ٹی ٹی پی میں افغان شہری بڑے پیمانے پر شامل ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے کنڑ صوبے سے القاعدہ کا حکیم المصری ٹی ٹی پی کو خودکش حملوں کی تربیت فراہم کر رہا ہے، افغان طالبان ٹی ٹی پی کے عزائم کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں، ٹی ٹی پی کو سرحد پار حملوں کے لیے اسلحہ بھی افغان طالبان اور القاعدہ مہیا کر رہے ہیں، افغان طالبان کے کچھ ارکان ٹی ٹی پی میں عملی طور پر بھی شامل ہو گئے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے ممبر اور ان کے خاندانوں کو افغان طالبان کی جانب سے متواتر امدادی پیکجز دیے جا رہے ہیں، گزشتہ جولائی میں القاعدہ نے اپنی زیر استعمال تمام گاڑیاں ٹی ٹی پی کے حوالے کیں، القاعدہ نے ٹی ٹی پی کے پاکستان میں حملوں میں مدد کے لیے 15 کمانڈر مہیا کیے، ستمبر میں ہونے والے چترال کے حملے میں القاعدہ نے ٹی ٹی پی کو اسلحے سے لیس جنگجو مہیا کیے۔

سیکیورٹی کونسل رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے 70 سے 200 ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی گرفتاری اور بارڈر سے دور علاقوں میں نقل مکانی پاکستان کی جانب سے پریشر سے بچنے کے لیے کی گئی، افغان طالبان ٹی ٹی پی کے نور ولی محسود کو 50،500 ڈالر مہینے کے حساب سے دیتی رہی۔

افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو دیے جانے والے اسلحے میں ایم 24 اسنائپر رائفلز، ایم 4 کاربائن، اور ایم 16 اے 4 رائفلز شامل ہیں، افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو اندھیرے میں دیکھنے والی ڈیوائسز بھی فراہم کیں جن کے ذریعے انھوں نے پاکستانی فورسز پر حملے کیے۔

واضح رہے کہ پاکستان ایک عرصے سے افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دے رہا ہے، دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے افغان طالبان کو افغان سرزمین دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنی ہوگی۔