ضم اضلاع میں ٹی ایم اوز کی تعیناتی کا فیصلہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی شہرام خان ترکئی نے کہا ہے کہ محکمہ بلدیات صوبے کے سات نئے اضلاع کی 250 تحصیلوں میں تحصیل میونسپل آفیسرز تعینات کر رہا ہے۔

پشاور میں وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر اور ترجمان صوبائی حکومت اجمل وزیر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہرام خان ترکئی نے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے کیونکہ اس سے قبل ان اضلاع میں ایسا کوئی نظام نہیں تھا۔ محکمہ بلدیات ضم شدہ اضلاع کے عوام کو بہترین میونسپل خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، نئے اضلاع میں بلدیاتی سیٹ اپ سے وہاں بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی جانب یہ ایک اہم قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سات نئے اضلاع ضلع خیبر، اورکزئی، مہمند، کرم، باجوڑ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان کی 25 تحصیلوں میں تحصیل میونسپل آفیسرز (TMOs) ٹرانسفر کیے جا رہے ہیں جس سے وہاں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، ٹی ایم اوز کلاس فور ملازمین اور صفائی کے لیے ورکرز بھرتی کئے جائیں گے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ نئے اضلاع میں صفائی کا نظام شروع کرنے کے لیے 50 جدید گاڑیاں اور 600 کنٹینرز مہیا کیے جا رہے ہیں، نئے اضلاع کی 702 ویلیج اور نیبر ہوڈ کونسلز (VCs/NCs) میں سیکرٹریز کی بھرتی کا عمل بھی شروع کیا جا رہا ہے جس کی فنانس ڈیپارٹمنٹ منظوری بھی دے چکا ہے۔

شہرام خان ترکئی نے کہا کہ اس ماہ کے آخر تک سفیر بلدیات مہم بھی لائی جا رہی ہے جس کا مقصد نئے اضلاع کی عوام کو انضمام اور نئے بلدیاتی نظام کے فوائد، ووٹ کی اہمیت اور محکمہ بلدیات کی خدمات سے آگاہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضم اضلاع کیے جانے والے یہ تمام اقدامات بلدیاتی انتخابات کی تیاری کی طرف ایک قدم ہے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے ضم اضلاع و ترجمان صوبائی حکومت اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ آج قبائلی اضلاع کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے کیونکہ وہاں بلدیاتی سیٹ اپ لایا جا رہا ہے جس سے قبائلی عوام کی 72 سالہ محرومیوں کا ازالہ اور زخموں پر مرہم رکھا جا رہا ہے۔

صوبائی ترجمان نے کہا کہ محکمہ بلدیات کے اس اقدام سے بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہوگی اور عوام بااختیار ہونے کے ساتھ ساتھ، ان کے مسائل بھی ان کی دہلیز پر حل ہوں گے۔

وزیراعلیٰ کے مشیر کا کہنا تھا کہ ویلیج کونسل سیکرٹریز اور دیگر عملے کی بھرتی سے ضم اضلاع کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی ملیں گے۔